تہران ، 11/جون (ایس او نیوز /ایجنسی)امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی فوجی کشیدگی کے درمیان ایران کی اسلامک ریوولیوشنری گارڈ کارپس (آئی آر جی سی) نے دنیا کی سب سے اہم آبی گزرگاہوں میں سے ایک آبنائے ہرمز کو سبھی جہازوں کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خطے میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ اور امریکہ کے نئے فوجی حملوں کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق تیل ٹینکروں، مال بردار جہازوں اور دیگر تمام طرح کے بحری جہازوں کی آمد و رفت فوری طور سے روک دی گئی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں امریکی بحری دستوں اور آئی آر جی سی کی بحریہ کے درمیان زبردست کشیدگی اور گولی باری کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ آئی آر جی سی کی بحریہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے 2 ایسے جہازوں کو نشانہ بنایا ہے جو اس کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
وہیں دوسری طرف امریکہ نے ایران کے کئی ساحلی علاقوں پر نئے حملے شروع کر دیئے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق بندر عباس، سیریف، جزیرۂ قشم اور جزیرۂ ہینگم سمیت کئی مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ میناب کاؤنٹی کے کارغان علاقے میں امریکی حملے کے بعد 2 مقامی باشندوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ اس کی فوج نے ایران میں کئی ٹھکانوں پر اضافی ’سیلف ڈیفنس‘ حملے شروع کئے ہیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی لگاتار جارحانہ سرگرمیوں کے جواب میں کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے بے حد اہم مانا جا رہا ہے۔ دنیا کے بڑے حصے کا تیل اور گیس اسی بحری راستے سے ہو کر گزرتا ہے۔ ایسی صورت میں اس گزرگاہ کے بند ہونے سے عالمی تیل بازار اور گلوبل تجارت پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔ تازہ حالات کے پیش نظر بڑھتے فوجی ٹکراؤ کی وجہ سے پورے مغربی ایشیا میں کشیدگی انتہا کو پہنچتی نظر آ رہی ہے۔