نئی دہلی، 28/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) سماجوادی پارٹی کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اکھلیش یادو نے لوک سبھا میں لوک امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026 پر بحث کے دوران مرکزی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے سابق مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ہٹا کر دراصل ’پردھان منتری‘ کو بچانے کی کوشش کی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’جن سے چندہ چوری نہ رکی، وہ پیپر لیک کیا روکیں گے؟‘
اکھلیش یادو نے جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تحریک نے ثابت کر دیا کہ جب نوجوان متحد ہو جائیں تو حکومت کو بھی اپنے فیصلے بدلنے پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل مبارک باد کی مستحق ہے کیونکہ اس نے حکومت کو جھکنے پر مجبور کر دیا۔ ان کے مطابق یہ پہلا ایسا احتجاج تھا جس میں طلبہ کے ساتھ ان کے والدین بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ سابق وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان جب استعفے کے بعد پارلیمنٹ پہنچے تو ان کا استقبال کیا گیا، جس پر انہیں کوئی اعتراض نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک وزیر کو ہٹا کر وزیراعظم کو سیاسی دباؤ سے بچانے کی کوشش کی گئی۔
اکھلیش یادو نے ایودھیا کے رام مندر میں مبینہ چندے کی چوری کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت پر طنز کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’جو لوگ چندے کی چوری نہیں روک سکے، وہ پیپر لیک کیسے روکیں گے؟‘‘ ان کے مطابق حکومت نے صرف قانون میں ترمیم پیش کی ہے، جبکہ مسئلے کی جڑ تک پہنچنے اور ذمہ داروں کو سزا دینے کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آتے۔
سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے ملک میں بار بار سامنے آنے والے پیپر لیک کے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس ریاست سے وزیراعظم منتخب ہو کر آتے ہیں، وہاں بھی امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں، جو پورے نظام پر سوالیہ نشان ہیں۔
انہوں نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) میں آؤٹ سورسنگ کے نظام پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں ڈر ہے کہیں پوری حکومت ہی آؤٹ سورس نہ کر دی جائے۔ ان کے مطابق امتحانی نظام جیسے حساس شعبے میں مستقل اور جوابدہ عملہ ہونا چاہیے، نہ کہ عارضی انتظامات۔
اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ حکومت تعلیم اور تعلیمی اداروں کو ایک مخصوص نظریے کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ایک لاکھ سے زائد پرائمری اسکول بند کیے گئے ہیں، جن میں سب سے زیادہ اتر پردیش میں بند ہوئے۔ اگر یہ اعداد و شمار غلط ہیں تو حکومت کو پارلیمنٹ میں اس کی وضاحت کرنی چاہیے۔
انہوں نے اتر پردیش کے رام پور میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف جاری کارروائی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے مجاہد مولانا محمد علی جوہر کے نام پر قائم اس ادارے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ نفرت کی سیاست ملک کو آخر کس سمت لے جا رہی ہے۔
اپنی تقریر کے اختتام پر اکھلیش یادو نے کہا کہ حکومت کو نوجوانوں کے غصے اور بے چینی کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ ان کے مطابق صرف قانون میں ترمیم کافی نہیں، بلکہ امتحانی نظام کو شفاف بنانے، پیپر لیک مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرنے، تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانے اور نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔