منگلورو یکم اگست (ایس او نیوز) ساحلی کرناٹکا کے ضلع دکشن کنڑا میں سنیچر کی صبح سے شروع ہونے والی مسلسل موسلادھار بارش نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا۔ ضلع کے مختلف حصوں میں نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا، کئی سڑکیں زیرِ آب آگئیں جبکہ ندیوں اور نالوں میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہونے لگی۔
شدید بارش کے باعث بیلتھنگڈی، پُتّور، سلیا اور منگلورو سمیت متعدد علاقوں میں ٹریفک کی رفتار سست پڑ گئی۔ کئی مقامات پر گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں اور دوپہیہ گاڑیوں کو دھکا دے کر نکالنے کی نوبت آگئی۔ دیہی علاقوں میں کھیت بھی پانی میں ڈوب گئے جس سے کسانوں میں تشویش پائی جارہی ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے خراب موسمی صورتحال کے پیش نظر تمام متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات والے علاقوں پر خصوصی نگرانی کی جا رہی ہے جبکہ عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور ندی نالوں کے قریب نہ جانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
بارش کی شدت کے پیش نظر ضلع دکشن کنڑا میں سنیچر کو اسکولوں، پری یونیورسٹی کالجوں، آنگن واڑی مراکز اور دیگر تعلیمی اداروں میں پہلے ہی تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا تاکہ طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسی دوران دکشن کنڑا کے مشہور زیارتی مقام کُکّے شری سبرامنیا مندر کے قریب کمارادھارا ندی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی، جس کے باعث مقدس گھاٹ مکمل طور پر زیرِ آب آگیا۔ انتظامیہ نے حفاظتی نقطۂ نظر سے عقیدت مندوں کے دریا میں اترنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
محکمۂ موسمیات (IMD) نے بھی خبردار کیا ہے کہ دکشن کنڑا، اُڈپی اور اتر کنڑا اضلاع میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی شدید سے انتہائی شدید بارش کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ بعض علاقوں میں 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
موسمی ماہرین کے مطابق ساحلی کرناٹک میں سرگرم مانسون اور کم دباؤ کے نظام کے باعث بارش کی شدت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ انتظامیہ نے ماہی گیروں، سیاحوں اور دریا اور ندی کنارے رہنے والے افراد کو خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو ٹیموں کو تیار رکھا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق کئی نشیبی علاقوں میں پانی گھروں اور دکانوں کے قریب تک پہنچ گیا ہے، تاہم فوری طور پر کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ انتظامیہ مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔