ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں نئے پاسپورٹ کے اجرا میں ستائے جانے کی شکایتیں، آر ٹی آئی مؤثر حل ثابت ہوسکتی ہے: اے پی سی آر جنرل سکریٹری

بھٹکل میں نئے پاسپورٹ کے اجرا میں ستائے جانے کی شکایتیں، آر ٹی آئی مؤثر حل ثابت ہوسکتی ہے: اے پی سی آر جنرل سکریٹری

Sat, 01 Aug 2026 20:16:02    S O News
بھٹکل میں نئے پاسپورٹ کے اجرا میں ستائے جانے کی شکایتیں، آر ٹی آئی مؤثر حل ثابت ہوسکتی ہے: اے پی سی آر جنرل سکریٹری

بھٹکل، یکم اگست (ایس او نیوز): بھٹکل میں نئے پاسپورٹ کے حصول کے دوران شہریوں کو درپیش مشکلات، سرکاری دفاتر میں شکایات درج کرانے کے مؤثر طریقۂ کار اور دیگر عوامی مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کرناٹک کے ریاستی جنرل سکریٹری اور ہائی کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ اکمل رضوی نے کہا  کہ عوام کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی اور دستاویزی راستہ اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ محض زبانی شکایت یا سرکاری افسران سے ملاقات اکثر مسئلے کے حل کے لیے کافی نہیں ہوتی۔

بھٹکل  رابطہ ہال میں اے پی سی آر کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں بھٹکل کے متعدد شہریوں کی جانب سے نئے پاسپورٹ کے اجرا میں غیر معمولی تاخیر اور رکاوٹوں کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق کئی افراد نے بتایا ہے کہ ان کے خلاف تقریباً دس سے بارہ سال قبل درج مقدمات عدالتوں سے مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں، اس کے باوجود انہی پرانے مقدمات کو بنیاد بنا کر پاسپورٹ جاری کرنے کے عمل میں انہیں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ایڈوکیٹ اکمل رضوی نے ایسے متاثرہ افراد کو مشورہ دیا کہ وہ وزارتِ داخلہ (Ministry of Home Affairs) کو حقِ اطلاعات (RTI) قانون کے تحت درخواست دیں اور اپنی پاسپورٹ درخواست کی مکمل مرحلہ وار (Date-wise) پیش رفت کی تفصیلات طلب کریں۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی آئی کے ذریعے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ مخصوص تاریخ کو داخل کی گئی پاسپورٹ درخواست کس مرحلے میں ہے، کس دفتر میں زیرِ کارروائی ہے اور اگر تاخیر ہو رہی ہے تو اس کی وجہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اس طریقۂ کار سے متعلقہ محکمے جواب دہ بنتے ہیں اور درخواست گزار کو اپنے معاملے کی حقیقی صورتِ حال معلوم ہو جاتی ہے۔

انہوں نے عوام کو یہ بھی مشورہ دیا کہ اگر کسی سرکاری محکمے سے متعلق کوئی شکایت یا مسئلہ درپیش ہو تو صرف زبانی طور پر افسران سے ملاقات کرنے پر اکتفا نہ کریں، بلکہ ہر شکایت یا درخواست تحریری شکل میں جمع کرائیں اور اس کی ایک نقل پر متعلقہ دفتر کی وصولی کی مہر (Acknowledgement) لگوا کر اپنے پاس محفوظ رکھیں۔ ان کے بقول تحریری ریکارڈ ہی کسی بھی معاملے میں ثبوت فراہم کرتا ہے اور سرکاری کارروائی کو آگے بڑھانے میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔

پروگرام کے دوران ایڈوکیٹ اکمل رضوی نے عوام کو درپیش دیگر انتظامی اور قانونی مسائل پر بھی گفتگو کی، ان کے حل کے مختلف قانونی طریقے بیان کیے اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنے آئینی و قانونی حقوق سے واقف رہیں اور ہر معاملے میں دستاویزی اور قانونی ذرائع اختیار کریں تاکہ ان کے مسائل مؤثر انداز میں حل ہو سکیں۔


Share: