نئی دہلی 25 جولائی (ایس او نیوز) :ملک بھر میں طلبہ تنظیموں کی جانب سے جاری احتجاج اور بالخصوص جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں میں شدت آنے کے بعد مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے بالاخر ہفتہ 25 جولائی کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جس کے ساتھ ہی کئی ہفتوں سے جاری ملک گیر طلبہ تحریک ایک اہم مرحلے میں داخل ہوگئی۔
نیٹ (NEET) سمیت مختلف مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پیپر لیک، امتحانی نظام پر عدم اعتماد اور نوجوانوں میں بڑھتی بے چینی کے پس منظر میں ان کے استعفے کا مطالبہ مسلسل زور پکڑ رہا تھا۔ ان کے استعفے کو نہ صرف احتجاجی طلبہ بلکہ "کاکروچ جنتا پارٹی" (CJP) اور اس سے وابستہ نوجوان کارکنوں نے اپنی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
استعفے میں دھرمیندر پردھان نے کیا کہا؟
اپنے استعفے اور سوشل میڈیا پر جاری بیان میں دھرمیندر پردھان نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ اس معاملے کی ذمہ داری قبول کی اور کبھی اس سے راہِ فرار اختیار نہیں کی۔ ان کے مطابق وہ نہیں چاہتے کہ جاری تنازع طلبہ کے مستقبل کو مزید متاثر کرے یا "ملک دشمن عناصر" اس صورتحال سے فائدہ اٹھائیں، اسی لیے انہوں نے وزارت چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
استعفے تک معاملہ کیسے پہنچا؟
نیٹ سمیت مختلف قومی امتحانات میں مبینہ پیپر لیک اور بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کی ناراضی پہلے سوشل میڈیا تک محدود تھی، لیکن بعد میں یہ احتجاج دہلی کے جنتر منتر سمیت ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا۔ نوجوانوں نے حکومت سے امتحانی نظام میں اصلاحات، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی، لاٹھی چارج، آنسو گیس کے استعمال اور متعدد مظاہرین کی گرفتاریوں نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا، جبکہ بعد ازاں سونم وانگچک کی طویل بھوک ہڑتال نے اس تحریک کو قومی سطح پر مزید توجہ دلائی
کاکروچ جنتا پارٹی کا کردار
نوجوانوں کی احتجاجی تحریک کا نمائندہ قرار دینے والی "کاکروچ جنتا پارٹی" نے ابتدا ہی سے واضح مؤقف اختیار کیا تھا کہ جب تک دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے احتجاج ختم نہیں ہوگا۔
پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دوران بھی بارہا کہا کہ اگر حکومت واقعی مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے تو واحد راستہ وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ احتجاج ختم کرنے کے لیے کسی اور فارمولے پر اتفاق نہیں کیا جائے گا۔
پارٹی نے آن لائن دستخطی مہم بھی شروع کی تھی جس میں نیٹ پیپر لیک کی ذمہ داری طے کرنے اور دھرمیندر پردھان کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس مہم کو جنتر منتر کے احتجاج اور "سنسد چلو" مہم سے بھی جوڑا گیا۔
استعفے کے بعد ابھیجیت دیپکے کا پہلا ردِعمل
استعفے کے فوراً بعد ابھیجیت دیپکے نے کہا: "جھکتی ہے دنیا، جھکانے والا چاہیے۔" انہوں نے اس فیصلے کو "جمہوریت کی فتح" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف آغاز ہے، اصل مقصد پورے تعلیمی نظام میں اصلاحات لانا ہے۔
بعد ازاں انسٹاگرام پر جاری ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ وزیر کے استعفے کے بعد بھی تحریک ختم نہیں ہوگی کیونکہ صرف ایک شخص کے جانے سے نظام تبدیل نہیں ہوتا، بلکہ پورے امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات ضروری ہیں۔
بیماری کے باوجود احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
استعفے سے قبل ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا اور میڈیا سے گفتگو میں بتایا تھا کہ انہیں ٹائیفائیڈ ہوگیا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ احتجاج جاری رکھیں گے اور دھرمیندر پردھان کے استعفے تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
سونم وانگچک کا کردار
ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے بھی امتحانی نظام میں اصلاحات کے مطالبے پر طویل بھوک ہڑتال کی، جس نے تحریک کو مزید تقویت دی۔ بعد میں انہوں نے بھوک ہڑتال ختم کردی، تاہم احتجاجی رہنماؤں نے واضح کیا کہ وزیر کے استعفے سمیت دیگر مطالبات پر جدوجہد جاری رہے گی۔
اگرچہ دھرمیندر پردھان کے استعفے کو احتجاجی تحریک کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم کاکروچ جنتا پارٹی اور دیگر طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق امتحانی نظام میں شفاف اصلاحات، پیپر لیک کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام تک احتجاجی مہم مختلف شکلوں میں جاری رہے گی۔