منگلورو، 30 / اگست (ایس او نیوز) کرناٹکا اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرناٹک - کیرالہ سرحد پر تلپاڈی کے قریب نیشنل ہائی وے 66 پر جمعرات کو پیش آنے والا حادثہ بریک فیل ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ بس ڈرائیور کی بے پروائی کا نتیجہ تھا ۔
کارپوریشن کے افسران کے مطابق، منگلورو-1 یونٹ کا ڈرائیور نجلیگپا چلوادی، کاسرگوڈ سے منگلورو کے لیے بس چلا رہا تھا ۔ دوپہر کے وقت تقریباً 1:45 بجے تلپاڈی ٹول گیٹ کے قریب ڈھلوان پر پہنچتے ہوئے اس نے بس کو بہت زیادہ رفتار سے چلایا ۔ آٹو رکشہ کے ساتھ تصادم سے بچنے کے لیے اس نے بریک لگائی لیکن بس بے قابو ہو کر آٹو سے ٹکرائی اور پھر پھسلتے ہوئے الٹ گئی ۔ خوفزدہ ہو کر ڈرائیور گاڑی چھوڑ کر فرار ہو گیا ۔ جس کے بعد بس ڈھلوان پر پیچھے کی طرف لڑھک کر کھڑی ہوئی اور اس دوران آٹو رکشہ اور بس کا انتظار کر رہے دو پیدل چلنے والوں سے ٹکرا گئی۔
سرکاری بس کی ناقص دیکھ بھال کے حوالے سے سوشل میڈیا اور کچھ میڈیا آؤٹ لیٹس پر گردش کرنے والی افواہوں کی وضاحت کرتے ہوئے کے ایس آر ٹی سی کے افسران نے کہا کہ گاڑی میں کوئی بریک فیل یا تکنیکی خرابی نہیں تھی ۔
کارپوریشن نے تصدیق کی ہے کہ اس کی تمام گاڑیوں کا اندرونی بیمہ ہے ۔ حادثے کے امدادی فنڈ سے مرنے والے آٹو مسافروں کے قانونی ورثاء کو فوری/ عبوری معاوضے کے طور پر فی کس ایک لاکھ روپے فراہم کیے گئے ہیں ۔ دو زخمی پیدل چلنے والوں کو ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے اوران کے تمام طبی اخراجات کے ایس آر ٹی سے برداشت کر رہی ہے ۔
حادثے کا شکار گاڑی حال ہی میں 26 اگست کو ایف سی کی تجدید سے گزری تھی اور اسے آر ٹی او فٹنس سرٹیفیکیشن ملا تھا ۔ اسے اگلے دن، 27 اگست کو منگلورو- کاسرگوڈ روٹ پر دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے ۔ حادثے سے پہلے بس تقریباً 540 کلومیٹر پر محیط 9 چکر مکمل کر چکی تھی ۔ یہ حادثہ اس کے 10ویں سفر (کاسرگوڈ-منگلورو) کے دوران پیش آیا تھا ۔
کے ایس آر ٹی سی کی ایک تکنیکی ٹیم نے جائے حادثہ پر گاڑی کا معائنہ کیا اور تصدیق کی کہ یہ بغیر کسی خرابی کے اچھی حالت میں ہے ۔ مزید برآں ایک اور ڈرائیور نے جائے حادثہ سے بس کو بحفاظت پولیس اسٹیشن تک پہنچا دیا تھا ۔
کے ایس آر ٹی سی منگلورو کے سینئر ڈیویژنل کنٹرولر نے اپنے بیان میں اس بات کا اعادہ کیا کہ یہ حادثہ بریک فیل ہونے یا کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے پیش نہیں آیا تھا بلکہ یہ صرف ڈرائیور کی بے پروائی اور غفللت کے ساتھ کی گئی ڈرائیونگ کا نتیجہ تھا ۔ اس لئے اس ڈرائیور کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی ۔