منگلورو 24 / اگست (ایس او نیوز) دھرمستھلا میں مبینہ طورپراغوا، عصمت دری اور قتل کے بعد متعدد لاشیں ٹھکانے لگانے کا دعویٰ کرنے والے بلدیہ کے سابق صفائی کرمچاری اور نقاب پوش گواہ کوعدالت میں حلف نامہ داخل کرکے جھوٹی گواہی دینے کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد پوچھ تاچھ کے لئے 3 ستمبر تک ایس آئی ٹی کی کسٹڈی میں دیا گیاہے۔
خیال رہے کہ 45 سالہ نقاب پوش گواہ کی شناخت اب سی این چینّیّا کے طور پر ظاہر کی گئی ہے، اس نے جوڈیشیل میجسٹریٹ کی عدالت میں اپنا حلف نامہ داخل کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ 1995 سے 2024 کے عرصے میں اس نے جنسی زیادتی اور قتل کا شکار ہونے والی خواتین اور اسکولی بچیوں کی سیکڑوں لاشیں دفنانے یا جلانے کی کارروائی انجام دی ہے جس کے لئے اسے بعض ذمہ داران نے مجبور کیا تھا۔ اسی کے ساتھ اس نے اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پرعدالت میں انسانی کھوپڑی اور جسم کی کچھ ہڈیاں بھی پیش کی تھیں۔
اس پس منظرمیں پولیس کی تحقیقات کے دوران ریاستی حکومت نے اس معاملے کی گہری اورشفاف جانچ کے لئے انسپکٹر جنرل، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس پرنب موہنتی کی قیادت میں ایس آئی ٹی قائم کی تھی جس نے ایک لمبے تفتیشی مرحلے کے طور پر دھرمستھلا میں نیتراوتی ندی کنارے اور جنگلاتی علاقے میں نقاب پوش گواہ کی طرف سے نشان دہی کیے گئے تقریباً 17 مقامات پر دفنائے گئی لاشوں کی باقیات تلاش کرنے کے لئے کھدائی کی۔ اس دوران صرف ایک دو مقامات پرمردانہ جسمانی ڈھانچوں کی کچھ باقیات بازیافت ہوئیں، اس کے سوا کسی اور مقام سے کوئی بھی ڈھانچہ یا باقیات برآمد نہ ہونے پر ایس آئی ٹی نے نقاب پوش گواہ چینّیّا سے سختی کے ساتھ پوچھ تاچھ کی اور اس کے بیانات میں فرق اورجھول کو دیکھتے ہوئے اسے گرفتار کرلیا۔
اب سابق صفائی کرمچاری چینّیّا سے ایس آئی ٹی تفتیش کر رہی ہے اور اس طرح جھوٹی گواہی دے کر سنسنی پھیلانے اور حکومت، عدالت اور پولیس کو گمراہ کرنے کے اصل مقصد کا پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایس آئی ٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ہڈیوں کی فارنسک جانچ سے پتہ چلا کہ یہ کسی خاتون کی نہیں بلکہ مردانہ ہڈیاں ہیں۔