نئی دہلی 25/جولائی (ایس او نیوز): امتحانی اصلاحات کی تحریک کے رہنما سونم وانگچک نے جمعہ کی رات دیر گئے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے صفدر جنگ اسپتال میں اپنے ساتھ مبینہ ناروا سلوک، غیر ضروری طور پر داخل رکھنے کی کوشش اور حکومتی دباؤ سے متعلق کئی سنگین الزامات عائد کیے۔ یہ ویڈیو ایسے وقت سامنے آئی جب وہ 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد طبی نگرانی میں صفدر جنگ اسپتال منتقل کیے گئے تھے۔
ویڈیو میں وانگچک نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹروں نے انہیں اسپتال سے ڈسچارج کرنے کے لیے طبی طور پر فٹ قرار دے دیا تھا، اس کے باوجود انہیں اسپتال میں روکنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے وہاں سے جانے کی خواہش ظاہر کی تو انہیں مختلف بہانے بنا کر روکا گیا، جس سے انہیں یہ احساس ہوا کہ انہیں طبی وجوہات کے بجائے کسی اور مقصد کے تحت اسپتال میں رکھا جا رہا ہے۔
وانگچک نے ویڈیو میں کہا کہ اگر حکومت انہیں گرفتار کرنا چاہتی ہے تو کھل کر گرفتار کرے، لیکن انہیں اسپتال میں زبردستی رکھنے کی کوشش نہ کرے۔ انہوں نے کہا، "اگر گرفتار کرنا ہے تو کر لیجیے، لیکن میں یہاں سے جا رہا ہوں۔ مجھے یہاں روکنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔" ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے اسپتال چھوڑ رہے ہیں کیونکہ ان کے مطابق وہ مزید وہاں رہنے کے پابند نہیں ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اسپتال کے اندر کچھ ایسے افراد موجود تھے جو ان پر مسلسل دباؤ ڈال رہے تھے اور ان کی نقل و حرکت محدود کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ وانگچک نے کہا کہ یہ صورتحال نہ صرف ان کے لیے ذہنی طور پر تکلیف دہ تھی بلکہ انہیں یہ احساس بھی دلا رہی تھی کہ ان کے ساتھ ایک عام مریض جیسا سلوک نہیں کیا جا رہا۔
ویڈیو میں انہوں نے اپنے حامیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ کسی بھی اشتعال انگیزی یا تشدد سے گریز کریں۔ ان کے مطابق اگر انہیں گرفتار بھی کیا جاتا ہے تو احتجاج مکمل طور پر پرامن رہنا چاہیے کیونکہ ان کی پوری تحریک آئین، جمہوریت اور عدم تشدد کے اصولوں پر مبنی ہے۔ انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ وہ کسی بھی افواہ پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے آنے والی اطلاعات پر بھروسہ کریں۔
وانگچک نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ ان کی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم ہونے کا مطلب تحریک کا خاتمہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھوک ہڑتال صرف احتجاج کا ایک مرحلہ تھا، جبکہ امتحانی نظام میں اصلاحات، طلبہ کو انصاف اور ذمہ دار افراد کے احتساب تک جدوجہد جاری رہے گی۔
صفدر جنگ اسپتال کی وضاحت
وانگچک کے ویڈیو سامنے آنے کے کچھ ہی دیر بعد صفدر جنگ اسپتال انتظامیہ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے وضاحتی بیان جاری کیا۔ اسپتال کے مطابق وانگچک کو طبی معائنے کے بعد نگرانی کے لیے داخل کیا گیا تھا کیونکہ 26 دن کی طویل بھوک ہڑتال کے بعد فوری طور پر اسپتال سے جانے کی اجازت دینا طبی اعتبار سے مناسب نہیں سمجھا جا رہا تھا۔
انتظامیہ نے کہا کہ مریض کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں چند مزید گھنٹے نگرانی میں رکھنے کی تجویز دی گئی تھی اور کسی بھی مرحلے پر انہیں زبردستی روکنے یا حراست میں رکھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اسپتال نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کا کردار مکمل طور پر طبی خدمات تک محدود تھا اور کسی سیاسی یا انتظامی معاملے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
سیاسی ردعمل اور پس منظر
وانگچک کا یہ ویڈیو ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حکومت اور احتجاج کی قیادت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ حکومت نے امتحانی اصلاحات، متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضے اور بعض دیگر مطالبات پر پیش رفت کا اشارہ دیا ہے، تاہم مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر اب تک کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔
ادھر سی جے پی نے واضح کیا ہے کہ وانگچک کی بھوک ہڑتال ختم ہونے کے باوجود تحریک جاری رہے گی اور جب تک ان کے بنیادی مطالبات پورے نہیں ہوتے، ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ برقرار رکھا جائے گا۔
وانگچک کے تازہ ویڈیو نے ایک مرتبہ پھر احتجاجی تحریک کو نئی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ ایک طرف ان کے حامی اسے حکومتی دباؤ کا ثبوت قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب اسپتال انتظامیہ نے ان کے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں صرف طبی احتیاط کا حصہ قرار دیا ہے۔