اورگ آباد ، 8/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) پیپر لیک معاملے پر جاری احتجاجی تحریک کے اہم چہرے ابھجیت دِپکے نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کی قیادت کرنے کے بعد اتوار کو اورنگ آباد پہنچے اورتعلیمی نظام میں بدعنوانیوں نیز بےروزگاری کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کا عزم کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنتر منتر پرگزشتہ روز ہوئے احتجاج میں ۶؍ سے۷؍ہزارا فراد شریک ہوئے۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اگر مرکزی وزیر تعلیم سے استعفیٰ نہیں لیا جا رہا تو اس کی ذمہ داری براہِ راست وزیر اعظم پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وزیر اعظم روس اور یوکرین کی جنگ رکوا سکتے ہیں تو پھر ملک میں پیپر لیک جیسے معاملات کیوں نہیں روک پا رہے ہیں ؟ابھجیت دپکے نے واضح کیا کہ وہ آئندہ بھی نوجوانوں، طلبہ، کسانوں اور مزدور طبقے کے مسائل پوری شدت سے اٹھاتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے شہری نوجوان ہوں یا دیہی علاقوں کے، ہم ہر اس طبقے کی آواز بنیں گے جسے موجودہ نظام میں ناانصافی کا سامنا ہے۔ ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ابھیجیت نے کہا کہ ایک طنزیہ انداز میں وجود میں آنے والی پارٹی کو عوام کی اتنی بڑی حمایت ملنا اس بات کی علامت ہے کہ نوجوانوں کی موجودہ سیاسی جماعتوں اور حکومت سے امیدیں ختم ہو چکی ہیں۔ واضح رہےکہ ابھیجیت اتوار کی صبح ۵؍ بجے اورگ آباد پہنچے تھے۔
پارٹی کے رجسٹریشن سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ابھی اس بارے میں بات کرنا قبل از وقت ہوگا۔ وہ حال ہی میں ہندوستان واپس آئے ہیں اور گزشتہ ۱۵؍ دنوں میں ہی یہ پورا معاملہ تیزی سے آگے بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان کی تحریک سے جڑے ہیں اور جنہوں نے ممبرشپ لی ہے، ان سے مشورہ کرکے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ حکومتی جماعت کے بعض لیڈروں کی جانب سے انہیں ’پاکستانی ‘ قرار دینے پر ردعمل دیتے ہوئے ابھجیت دپکے نے کہا کہ اگر وہ واقعی پاکستانی ہوتے تو کیا انہیں دہلی میں احتجاج کرنے کی اجازت دی جاتی؟ انہوں نے مزید کہا کہ صرف انہیں ہی نہیں بلکہ۱۷؍ سالہ ویدانت کو بھی پاکستانی کہا گیا جو ایک سی بی ایس ای کا طالب علم ہے۔ دِپکے کے مطابق اس طالب علم کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے اپنی مارک شیٹ میں ہوئی غلطی کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر اس ملک میں کس کس کو پاکستانی کہا جائے گا؟ صحافیوں کو، اپوزیشن کو یا سوال پوچھنے والوں کو؟ کیا صرف بی جے پی اور آئی ٹی سیل سے وابستہ لوگ ہی بھارتی ہیں ؟
تحریک کے بڑھتے اثرات اور دباؤ کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر دپکے نے کہا کہ انہیں دباؤ نہیں بلکہ ذمہ داری محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی تحریک کو سونم وانگ چک، وشومبر چودھری، انجلی دمانیا، پرشانت بھوشن اور سپریم کورٹ کے وکیل سنجے ہیگڑے جیسی اہم شخصیات کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن جماعتوں سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہے۔ دپکے نے اپنی تحریک کو ایک ’سیاسی تحریک ‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں ہر چیز سیاست سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق صرف پانچ سال میں ایک بار ووٹ ڈالنا ہی سیاست نہیں، بلکہ منتخب نمائندوں سے مسلسل سوال کرنا بھی جمہوریت اور سیاست کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا نوجوان اب خوفزدہ ہونے والا نہیں ہے۔ اگرچہ ان کے والدین کو فکر ہوتی ہے، لیکن وہ انہیں یقین دلاتے ہیں کہ لاکھوں نوجوان ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کانگریس لیڈر یشومتی ٹھاکر کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی نظریاتی مماثلت کانگریس سے ہونے کے بیان پر ابھجیت نے کہا کہ پارٹی کی اصل تحریک مہاتما گاندھی، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر، جواہر لال نہرو اور بھگت سنگھ جیسے رہنما ہیں اور یہی ان کی نظریاتی بنیاد ہے۔ دہلی میں احتجاج کے بعداپنے آبائی شہر واپس پہنچنے پر ابھجیت دپکے نے کہا کہ ’’حکومت نے ابھی صرف ٹریلر دیکھا ہے، اصل کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ ‘‘