نئی دہلی ، 8/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)اسمبلی انتخابا ت میں ٹی ایم سی اور ڈی ایم کے کی شکست کے بعد بدلی ہوئی مساوات کے ساتھ پیر کو انڈیا اتحاد کی پہلی میٹنگ ہونے جارہی ہے جس میں ۲۳؍ پارٹیوں کی شرکت متوقع ہے۔ ڈی ایم کے اس میٹنگ میں شریک نہیں ہوگی جبکہ ممتا بنرجی کی ٹی ایم سی جس پر الزام ہے کہ اس نے اپوزیشن کے اتحاد پرکواکثر جوتے کی نوک پر رکھا، پیر کی میٹنگ کیلئے سب سے زیادہ سنجیدہ نظر آرہی ہے۔ سی پی آئی اور جھارکھنڈ مکتی مورچہ نے میٹنگ سے قبل حالانکہ کانگریس کی قیادت کے تعلق سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے تاہم کانگریس نے ’انڈیا‘ کے متحد ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت سڑک سے لے کر ایوان تک حکومت کو گھیرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ جے رام رمیش نے ایکس پر پوسٹ کیا ہے کہ ۲۳؍ پارٹیوں نے’’انڈیا جن بندھن‘‘ کی میٹنگ میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔
ترنمول کانگریس جومغربی بنگال میں اسمبلی الیکشن ہارنے اور پھر اپنے ۶۰؍ اراکین اسمبلی کی بغا وت کے بعد بری طرح ٹوٹ چکی ہے، پر اس میٹنگ کے حوالے سے سب کی نگاہیں مرکوز ہیں۔ ممتا بنرجی اتوار کی شام ہے دہلی پہنچ گئی ہیں جہاں انہوں نے اتوار کو عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کیجریوال سے ملاقات بھی کی۔ ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا رکن ڈیرک اوبرائن نے جے رام رمیش کے ایک ایکس پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’مشترکہ مقصد اور واضح ارادے کے ساتھ یہ ملاقات ہو رہی ہے۔ ’انڈیا ‘متحد ہے۔ کئی جماعتیں باہمی رفاقت کے جذبے کے ساتھ اس اجلاس میں شریک ہونے کی منتظر ہیں۔ ‘‘ذرائع کے مطابق یہ اجلاس ترنمول کانگریس کے اصرار پر بلایا گیا ہے، جو اس وقت مغربی بنگال میں اندرونی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور پارٹی کے قومی جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی کے اجلاس میں شرکت کرنے کی توقع ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس، مختلف قومی و عوامی مسائل، وفاقی ڈھانچے، انتخابی حکمت عملی اور مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اپوزیشن کے مشترکہ لائحۂ عمل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ اجلاس میں کانگریس کے قومی صدرملکارجن کھرگے، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی، راشٹریہ جنتا دل کے رہنماتیجسوی یادو، شیو سینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کی جانب سے سنجے راوت اور این سی پی (شرد پوار گروپ) کی نمائندگی کرتے ہوئے سپریہ سُلےسمیت کئی اہم شخصیات شرکت کریں گی۔
انڈیا اتحاد کی اہم اتحادی جماعت ڈی ایم کےاس اجلاس میں شریک نہیں ہوگی۔ ذرائع کے مطابق ڈی ایم کے نے فی الحال خود کو اس اجلاس سے الگ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اپنی نمائندگی نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انڈیا اتحاد میں اس کی جگہ وزیراعلیٰ وجے کی پارٹی ’ٹی وی کے‘لے گی جس نے تمل ناڈو سے اپنی راجیہ سبھا کی پہلی سیٹ کانگریس کو دینے کا اعلان کرتے ہوئے اس بات کا اشارہ دیاہے کہ وہ کانگریس کے ساتھ طویل اتحاد کیلئے تیار ہے۔ دوسری جانب کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ایم) کے جنرل سیکریٹری ایم اے بے بی نے انڈیا اتحاد کے تمام شراکت داروں کو خط لکھ کر کیرالا میں بائیں محاذ کے خلاف کانگریس کی مہم پر اعتراض کیا ہے۔ اُدھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) اس بات پر ناراض ہے کہ کانگریس نے جھارکھنڈ سے راجیہ سبھا کی دو نشستوں میں سے ایک کیلئےیکطرفہ طور پر اپنے امیدوار کا اعلان کر دیا۔
کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نےکہا ہےکہ اتحاد میں شامل چند جماعتیں بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر پیر کے اجلاس میں شریک نہیں ہوسکیں گی، تاہم وہ بھی مرکزی حکومت کی پالیسیوں اور طرزِ حکمرانی کی اسی شدت سے مخالفت کرتی ہیں جس طرح دیگر اتحادی جماعتیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس کی پالیسیوں سے لاکھوں شہریوں کے ووٹنگ کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں جبکہ آئین اور جمہوری اداروں پر مسلسل حملے کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کا استعمال اپوزیشن رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی چیلنجز نے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔