ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں اردو اور مراٹھی اساتذہ کی بھرتی کو کابینہ کی منظوری، 1000 اسامیاں پُر کرنے کا فیصلہ

کرناٹک میں اردو اور مراٹھی اساتذہ کی بھرتی کو کابینہ کی منظوری، 1000 اسامیاں پُر کرنے کا فیصلہ

Mon, 24 Aug 2026 12:00:23    S O News

بنگلورو، 24/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک میں لسانی اقلیتی میڈیم کے اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتی کے لیے مساوی مواقع فراہم کرنے کے مطالبے پر دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر صولیڈیریٹی یوتھ موومنٹ کرناٹک کی جانب سے جاری مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں حکومت کی جانب سے مثبت پیش رفت کا تنظیم نے خیرمقدم کیا ہے۔ سال 2026 کی اساتذہ بھرتی کے ابتدائی نوٹیفکیشن میں اردو، مراٹھی سمیت لسانی اقلیتی میڈیم کے امیدواروں کو مناسب مواقع فراہم نہ کیے جانے کا مسئلہ صولیڈیریٹی یوتھ موومنٹ نے ابتدا ہی سے حکومت کے سامنے اٹھایا تھا۔ اس سلسلے میں محکمۂ تعلیم، اعلیٰ سرکاری افسران، وزراء، ارکانِ مقننہ اور مختلف کمیشنوں کو یادداشتیں پیش کرتے ہوئے مسلسل اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔

29 جون کو اساتذہ کی بھرتی سے متعلق مجوزہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد صولیڈیریٹی نے اس لازمی شرط پر اعتراض کیا تھا کہ امیدوار نے ایس ایس ایل سی یا پی یو سی میں کنڑا کو پہلی یا دوسری زبان کے طور پر پڑھا ہو۔ 3 جولائی کو محکمۂ تعلیم کو تحریری اعتراض پیش کیا گیا، جبکہ 21 جولائی کو محکمۂ عوامی تعلیم کی ایڈیشنل چیف سکریٹری رشمی مہیش سے ملاقات کرکے مجوزہ قواعد کے بارے میں تفصیلی یادداشت پیش کی گئی۔ 30 جولائی کو جماعت اول اور جماعت دوم کے جسمانی تعلیم کے اساتذہ کی بھرتی میں تدریسی میڈیم سے متعلق اہلیت کو واضح کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

10 اگست کو اساتذہ کی بھرتی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد یہ بات مزید واضح ہوئی کہ کنڑا اور انگریزی میڈیم کے لیے زیادہ مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ اردو، مراٹھی سمیت دیگر لسانی اقلیتی میڈیم کے اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتی کے لیے مناسب مواقع نہیں دیے گئے۔ صولیڈیریٹی نے پانچ سال کی خصوصی عمر کی رعایت نہ دیے جانے اور سرکاری ہائی اسکولوں میں ریاضی کے خالی اساتذہ کی اسامیوں کو بھرتی کے عمل میں شامل نہ کیے جانے کا مسئلہ بھی اٹھایا۔

12 اگست کو محکمۂ تعلیم سے نوٹیفکیشن میں ترمیم کرکے دوبارہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اسی روز وزیر یو۔ ٹی۔ قادر سے ملاقات کرکے مختلف مطالبات پر مشتمل یادداشت پیش کی گئی۔ 13 اگست کو رکنِ قانون ساز کونسل بلقیس بانو کو یادداشت پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس مسئلے کو وزیرِ تعلیم کے سامنے اٹھائیں اور لسانی اقلیتی اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتی، پانچ سال کی عمر کی رعایت اور سرکاری ہائی اسکولوں میں ریاضی کے خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ اسی موقع پر کرناٹک ریاستی اقلیتی کمیشن کو بھی یادداشت پیش کی گئی۔

14 اگست کو کرناٹک ریاستی کمیشن برائے تحفظِ اطفال کے حقوق، انسانی حقوق کمیشن اور کرناٹک اردو اکادمی کو بھی یادداشتیں پیش کی گئیں۔ صولیڈیریٹی کی یادداشت کا نوٹس لیتے ہوئے اقلیتی کمیشن نے محکمۂ اسکولی تعلیم کے کمشنر کو خط لکھ کر ضروری کارروائی کی ہدایت دی، جبکہ انسانی حقوق کمیشن میں بھی اس معاملے کو درج کیا گیا، جس سے جدوجہد کو مزید تقویت ملی۔

16 اور 17 اگست کو اساتذہ کی بھرتی میں لسانی اقلیتی امیدواروں کو درپیش مسائل مختلف ذرائع ابلاغ میں نمایاں طور پر زیرِ بحث آئے۔ وارث بھارتی میں اس سلسلے میں خصوصی رپورٹ شائع ہوئی، جبکہ صولیڈیریٹی یوتھ موومنٹ کرناٹک کے یوٹیوب چینل پر استاد امیدوار مرتضیٰ ایلکل کے ساتھ خصوصی گفتگو بھی کی گئی۔

18 اگست کو ریاست کے مختلف اضلاع سے بنگلورو کے کے ایم ڈی سی بھون پہنچنے والے اساتذہ امیدواروں کی جدوجہد میں صولیڈیریٹی نے براہِ راست تعاون کیا۔ امیدواروں کی مشترکہ ایکشن کمیٹی کی تشکیل میں مدد فراہم کرنے کے ساتھ سابق وزیرِ اعلیٰ سدارامیا سے امیدواروں کے وفد کے ہمراہ ملاقات کرکے یادداشت پیش کی گئی۔ بیرونی اضلاع سے آنے والے امیدواروں کے لیے رات کے قیام اور کھانے کے انتظام میں بھی صولیڈیریٹی ٹیم نے تعاون کیا۔

19 اگست کو امیدواروں کے وفد کے ساتھ وزیر رضوان ارشد سے ملاقات کرکے تفصیلی گفتگو کی گئی۔ بعد ازاں ودھان سودھا پہنچ کر وزیر یو۔ ٹی۔ قادر سمیت متعدد عوامی نمائندوں سے ملاقات کی گئی اور مسائل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اردو و مراٹھی میڈیم اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتی اور اقلیتی طلبہ کی تعلیم سے متعلق اہم امور بھی زیرِ بحث آئے۔

20 اگست کو مشترکہ ایکشن کمیٹی کے ہمراہ ودھان سودھا پہنچ کر قانون ساز کونسل کے چیئرمین سلیم احمد کے دفتر میں منعقدہ اجلاس میں بھی اساتذہ کی بھرتی کے مسئلے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

ان مسلسل کوششوں کے نتیجے میں 21 اگست کو نائب وزیرِ اعلیٰ ڈی۔ کے۔ شیوکمار کی قیادت میں منعقدہ کابینہ اجلاس میں 800 اردو اور 200 مراٹھی اساتذہ کی بھرتی کو منظوری دی گئی۔ صولیڈیریٹی یوتھ موومنٹ کے مطابق یہ فیصلہ لسانی اقلیتی میڈیم کے اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتی کے لیے جاری جدوجہد میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

صولیڈیریٹی یوتھ موومنٹ کرناٹک نے حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ محکمۂ مالیات کی رپورٹ اور دیگر ضروری کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد جلد ہی بھرتی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے صولیڈیریٹی یوتھ موومنٹ کرناٹک نے مطالبہ کیا کہ منظور شدہ 800 اردو اور 200 مراٹھی اساتذہ کی اسامیوں کے لیے جلد از جلد باضابطہ بھرتی نوٹیفکیشن جاری کیا جائے اور اہل امیدواروں کو منصفانہ مواقع فراہم کیے جائیں۔

تنظیم نے کہا کہ لسانی اقلیتی بچوں کو ان کی مادری زبان میں معیاری تعلیم حاصل ہونا ان کے بنیادی حقِ تعلیم کا حصہ ہے۔ اس لیے اردو، مراٹھی سمیت تمام لسانی میڈیم کے اسکولوں میں ضرورت کے مطابق اساتذہ کی اسامیوں کی نشاندہی کرکے انہیں پُر کیا جانا چاہیے۔

اس کے علاوہ پانچ سال کی عمر کی رعایت، سرکاری ہائی اسکولوں میں ریاضی کے اساتذہ کی خالی اسامیوں کو پُر کرنے اور اساتذہ کی بھرتی کے عمل سے متعلق دیگر زیرِ التوا مطالبات پر بھی حکومت سے فوری مثبت اقدام کا مطالبہ کیا گیا۔

صولیڈیریٹی یوتھ موومنٹ کرناٹک کے ریاستی صدر ڈاکٹر نسیم احمد نے پریس ریلیز میں کہا کہ حکومت کو تمام زیرِ التوا مطالبات پر جلد کارروائی کرتے ہوئے لسانی اقلیتی میڈیم کے اسکولوں میں مطلوبہ تعداد میں اساتذہ کی تقرری عمل میں لانی چاہیے اور ان اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلبہ کے ساتھ مکمل انصاف کو یقینی بنانا چاہیے۔


Share: