بنگلورو ، 9/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) ریاست میں خشک سالی کی صورتحال کا جائزہ ابھی مکمل نہیں ہوا بلکہ مرحلہ وار جاری ہے۔ پہلے مرحلے میں 101 تعلقوں کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا جاچکا ہے، جبکہ دوسرے مرحلے کی جانچ جاری ہے۔ مزید 25 تعلقے خشک سالی سے متاثرہ قرار دیے جانے کے معیار پر پورے اترے ہیں اور انہیں جلد متاثرہ علاقوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ یہ بات نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر محصولات ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہی۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کے اعلان میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی ہے۔ اگر مانسون اور مابعد مانسون بارش میں کمی جاری رہتی ہے تو جائزے کا عمل بھی جاری رکھا جائے گا۔ گزشتہ مرتبہ تقریباً 200 تعلقوں کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا گیا تھا اور اس مرتبہ بھی 200 سے زائد تعلقوں کو متاثرہ قرار دیے جانے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساحلی علاقے کو چھوڑ کر ریاست کے بیشتر حصوں میں خشک سالی کی صورتحال پائی جارہی ہے۔
بعض ارکان اسمبلی کی جانب سے اپنے تعلقوں کو شدید خشک سالی کے باوجود متاثرہ علاقوں کی فہرست میں شامل نہ کیے جانے کے الزام پر ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ کسی کو تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ پوری ریاست خشک سالی کا سامنا کررہی ہے اور تعلقوں کو متاثرہ قرار دینے کے عمل میں ریاستی حکومت کے کسی فرد کا ذاتی کردار نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ الزام بے بنیاد ہے کہ بعض تعلقوں کو جان بوجھ کر خشک سالی سے متاثرہ فہرست سے خارج کیا گیا ہے۔ خشک سالی سیاسی وابستگی دیکھ کر نہیں آتی۔ پہلے ہی جاری فہرست میں اپوزیشن ارکان اسمبلی کی نمائندگی والے تعلقے بھی شامل ہیں۔
ڈاکٹر پرمیشور نے واضح کیا کہ اگر ریاستی حکومت اپنی جانب سے ہی کسی علاقے کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دے تو مرکز سے خشک سالی امداد حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ مرکزی حکومت کی مقررہ رہنما ہدایات کے مطابق ہی متاثرہ علاقوں کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ، زمینی حقائق کی جانچ اور سائنسی مطالعہ کیا جاتا ہے، جس کے بعد حتمی اعلان عمل میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسمبلی اجلاس کے دوران بھی اس طریقۂ کار کی وضاحت کرچکے ہیں۔
کرناٹک ریاست پسماندہ طبقات فیڈریشن کی جانب سے سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کے اعزاز میں منعقدہ پروگرام میں ستیش جارکی ہولی اور ڈاکٹر ایچ۔ سی۔ مہادیوپا کو مدعو نہ کیے جانے کے سلسلے میں اہندا تنظیم میں اختلافات سے متعلق سوال پر ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ حال ہی میں منعقدہ پروگرام اہندا کا اجلاس نہیں تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اہندا میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے اور اس کی قیادت مختلف دھڑوں میں تقسیم نہیں ہوئی ہے۔
نائس منصوبے سے متعلق سابق وزیر اعظم ایچ۔ ڈی۔ دیوے گوڑا کے خط پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ یہ الزام بے بنیاد ہے کہ زمین سے محروم ہونے والے افراد کے مقابلے میں ریاستی کابینہ کے کئی وزرا اس معاملے سے فائدہ حاصل کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا ہے۔ کسانوں نے چند لاکھ روپے کے عوض ایسی زمینیں حوالے کی تھیں جن کی موجودہ مالیت سیکڑوں کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔ ایسے کسانوں کے ساتھ انصاف کو یقینی بنانے کے لیے 1,453 رہائشی پلاٹ الاٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر پرمیشور نے واضح کیا کہ اس فیصلے کا مقصد کسی فرد کو ذاتی فائدہ پہنچانا نہیں ہے۔
ایپکس بینک کے انتخابات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کے۔ این۔ راجنا بینک کے صدر کے عہدے کے امیدوار ہیں۔ چونکہ وہ اور راجنا ایک ہی ضلع سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے اس معاملے پر ملاقات کرکے بات چیت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی قیادت میں تمام ڈائریکٹروں کو طلب کرکے مشاورت کی جائے گی اور اس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
کاویری کا پانی تمل ناڈو میں 4.8 ہیکٹر اراضی کی آبپاشی کے لیے استعمال ہونے کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔ ڈاکٹر پرمیشور نے مزید بتایا کہ آج ہونے والے کاویری آبی انتظامی اتھارٹی کے اجلاس میں ریاستی حکومت تمل ناڈو کی جانب سے کاویری کے پانی کو 4.8 ہیکٹر اراضی میں زرعی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جانے کا معاملہ پیش کرے گی۔