نئی دہلی، 13/ اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی)الیکشن کمیشن نے دہلی میں ہونے والی ’خصوصی گہری نظرثانی‘ (ایس آئی آر) کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر کے مطابق ایس آئی آر کے تحت دہلی کی ووٹر لسٹ میں تقریباً 33 لاکھ ایسی اندراجات پائی گئی تھیں، جن میں خامی تھی یا جن کا موجودہ ریکارڈ سے میل نہیں ہو پا رہا تھا۔ اب ان میں سے تقریباً 20 لاکھ معاملات کو نمٹا لیا گیا ہے، جبکہ باقی معاملات کا حل ہونا ابھی باقی ہے۔
دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹ میں اندراجات سے متعلق پائی جانے والی خامیوں کو دور کرنے کے لیے مہم چلائی جا رہی ہے۔ تقریباً 33 لاکھ اندراجات میں منطقی بے ضابطگیاں پائی گئی تھیں۔ ان میں سے تقریباً 20 لاکھ معاملات حل کیے جا چکے ہیں۔
دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر نے جاری بیان میں کہا ہے کہ کسی بھی شخص کو کوئی شکایت ہو تو وہ 14,947 بوتھ سطح کے افسران (بی ایل او)، 902 معاون انتخابی رجسٹریشن افسران (اے ای آر او)، 70 انتخابی رجسٹریشن افسران (ای آر او)، 13 ضلعی انتخابی افسران (ڈی ای او) یا دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر سے رابطہ کر سکتا ہے۔ بیان کے مطابق خصوصی کیمپ بھی لگائے جا رہے ہیں، جہاں بوتھ سطح کے افسران ووٹرس کی مدد کر سکتے ہیں۔ ایس آئی آر سے متعلق معاملات کو نمٹانے کے لیے ایسے کیمپ 18 اور 25 اکتوبر کو بھی لگائے جائیں گے۔
اس درمیان الیکشن کمیشن نے لوگوں کو یقین دلایا ہے کہ کسی بھی اہل ووٹر کو فہرست سے باہر نہیں کیا جائے گا۔ یعنی ووٹ دینے کا حق رکھنے والے کسی بھی شخص کا نام ووٹر لسٹ سے نہیں ہٹایا جائے گا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اپوزیشن لگاتار ایس آئی آر کے ذریعہ خاص طبقہ کے ووٹرس کو نااہل ٹھہرائے جانے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ اس معاملے میں اپوزیشن پارٹیوں نے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے رکھے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے لگاتار احتجاجی مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔ حالانکہ الیکشن کمیشن لگاتار اس طرح کے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔ اب یہ معاملہ سپریم کورٹ تک بھی پہنچ گیا ہے۔