ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / دہلی ایئرپورٹ پر CJP کے رہنماؤں کی فلائٹ کے اندر ہی حراست؛ دھروو راٹھی بھی پولیس تحویل میں

دہلی ایئرپورٹ پر CJP کے رہنماؤں کی فلائٹ کے اندر ہی حراست؛ دھروو راٹھی بھی پولیس تحویل میں

Sat, 10 Oct 2026 10:57:55    S O News
دہلی ایئرپورٹ پر CJP کے رہنماؤں کی فلائٹ کے اندر ہی حراست؛ دھروو راٹھی بھی پولیس تحویل میں

نئی دہلی، 10 /اکتوبر (ایس او نیوز) دہلی پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھجیت دیپکے، ترجمان سورَو داس اور رہنما آشوتوش رنکا کو ہفتہ کے روز اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طیارے کے اندر ہی حراست میں لے لیا۔ یہ کارروائی جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف پارٹی کے مجوزہ احتجاج سے قبل کی گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، ممبئی سے آنے والی پرواز کے دہلی پہنچنے کے بعد پولیس اہلکار طیارے میں داخل ہوئے اور تینوں رہنماؤں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ ابھجیت دیپکے نے اس کارروائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر نشر کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں سے سوال کیا کہ انہیں طیارے سے اترنے کے بعد کیوں نہیں روکا گیا۔ ویڈیو میں انہیں یہ کہتے ہوئے بھی سنا گیا کہ وہ گرفتاری دینے کے لیے آئے ہیں اور پولیس انہیں گرفتار کرسکتی ہے۔ پولیس اہلکاروں نے جواب میں کہا کہ یہ گرفتاری نہیں ہے اور ان سے تعاون کرنے کی اپیل کی۔

ادھر، جرمنی سے احتجاج کی حمایت میں ہندوستان پہنچنے والے معروف یوٹیوبر دھروو راٹھی کو بھی ہفتہ کی صبح گروگرام میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیے جانے کی اطلاع ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، دہلی پولیس کے تقریباً 50 اہلکار راٹھی کی رہائش گاہ پہنچے اور انہیں حراست میں لے لیا۔ CJP کے دیگر کارکنوں کو بھی حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں، جن میں تنظیم کی قانونی ٹیم کی سربراہ رتنا سنگھ بھی شامل ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں احتجاجی مقام تک پہنچنے سے پہلے پارٹی رہنماؤں کو حراست میں لیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے اس کارروائی کو احتجاج کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

بتاتے چلیں کہ دہلی پولیس نے احتجاج کے لیے اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ دوسری جانب، ابھجیت دیپکے نے احتجاج کے لیے پیشگی اجازت کی شرط پر سوال اٹھاتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت احتجاج کے حق کا حوالہ دیا تھا۔

دہلی پولیس کی جانب سے احتجاج کی اجازت نہ دیے جانے اور رہنماؤں کو حراست میں لیے جانے کے بعد یہ معاملہ احتجاج کے حق اور شہری آزادیوں سے متعلق بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

Click here for report in English 


Share: