گوالیر، 18/اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی) گوالیار میں ایک 71 سالہ خاتون کو گانجہ اسمگلنگ کیس میں دلچسپ سزا سنائی گئی، جس کے پیچھے ایک غیرمعمولی وجہ تھی۔ 11 سال تک جاری رہنے والی سماعت کے بعد جب مجسٹریٹ نے کیس ٹرائل کورٹ بھیجنے کا حکم دیا، تو ضعیفہ دل برداشتہ ہوگئیں۔ سماعت کے دوران ملزمہ نے عدالت کے سامنے اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ سالہا سال سے چلنے والے کیس نے ان کی زندگی پر کس طرح اثر ڈالا ہے۔ ان کی عمر اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے ان کے حق میں نرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دن قید اور 10 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق گوالیار کورٹ میں سماعت کے دوران 71 سالہ ملزم خاتون نے عدالت سے کہا کہ ’’سر، میں گزشتہ 11 سال سے کیس لڑتے لڑتے تھک گئی ہوں۔ اب معاملہ یہ کہتے ہوئے ٹرائل کورٹ میں بھیجا جا رہا ہے کہ ضبط گانجے کی مقدار 950 گرام نہیں بلکہ 1 کلوگرام ہے۔ ایسے میں اب پھر سے ٹرائل شروع ہوگی، بیان درج ہوں گے۔ میری عمر 71 سال ہو چکی ہے، میں اب مزید مقدمہ نہیں لڑ سکتی۔‘‘ ضعیفہ نے یہ بھی کہا کہ ’’مجھے پولیس کی طرف سے لگائے گئے سبھی الزامات قبول ہیں۔‘‘ یہ سننے کے بعد عدالت نے خاتون کی عمر اور تکلیف دیکھتے ہوئے ایک دن کی سزا اور 10 ہزار روپے کا جرماہن لگا کر کیس کا فیصلہ فوراً ہی سنا دیا۔
یہ معاملہ گانجہ کی اسمگلنگ سے جڑا ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اولڈ کینٹ تھانہ پولیس نے 5 اگست 2013 کو بادامی بائی کے ہجیرا واقع گھر سے ایک کلوگرام گانجہ ضبط کیا تھا۔ پولیس کو مخبر کے ذریعہ خبر ملی تھی کہ بادامی بائی غیر قانونی طریقے سے گھر میں گانجہ رکھے ہوئے ہے۔ جب پولیس نے چھاپہ مارا تو ضبط کیے گئے گانجے کی مقدار 950 گرام، یعنی ایک کلوگرام سے کچھ کم تھی۔ اس لیے معاملے کی سماعت ٹرائل مجسٹریٹ کورٹ میں ہوئی۔ پولیس نے 11 ستمبر 2013 کو اس معاملے میں چالان پیش کیا۔ 11 سال تک معاملے کا ٹرائل مجسٹریٹ کورٹ میں چلا۔ جب گانجے کا ’تول پنچ نامہ‘ دیکھا گیا تو پتہ چلا کہ گانجے کا وزن بیگ سمیت ایک کلوگرام تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مجسٹریٹ نے معاملہ اسپیشل کورٹ ٹرانسفر کر دیا تھا۔