نئی دہلی،7؍جون (ایس او نیوز؍ایجنسی) بی جے پی کے سابق ترجمانوں کی جانب سے پیغمبر اسلام پر توہین آمیز بیانات کے تعلق سے کئی ممالک کی طرف سے احتجاج درج کئے جانے کے درمیان کانگریس نے منگل کے روز کہا کہ ہندوستان کو مذہبی رواداری پر کسی ملک سے درس لینے کی ضرورت نہیں ہے لیکن بی جے پی کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ذرا سے سیاسی فائدہ کے لئے ملک کی شناخت کو نقصان نہیں پہنچنا چاہئے۔
کانگریس کے ترجمان جے ویر شیرگل نے کہا، ’’ہندوستان کو مذہبی رواداری پر کسی ملک سے درس حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہےت لیکن بی جے پی کو یہ بات سمجھنا چاہئے کہ ایک ذرا سے سیاسی فائدے اور ٹی آر پی سنسنی کے لئے ہماری سیکولر شناخت کو نقصان نہیں پہنچنا چاہئے۔ حکومتیں آئیں گی اور جائیں گی لیکن ایک زندہ جاوید اور کثیر ثقافتی ملک کے طور پر ہندوستان کی شناخت ہمیشہ قائم رہنی چاہئے۔‘‘
وہیں، کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے پیغم اسلام کے خلاف تبصرہ کے معاملہ میں بی جے پی کی اپنے دو لیڈران کے خلاف تاخیر سے کی گئی کارروائی پر تنقید کی۔ چدمبرم نے کہا کہ بین الاقوامی ردعمل کی وجہ سے بی جے پی اپنے لیڈران پر کارروئی کے لئے مجبور ہوئی۔ انہوں نے کہا ’’نوپور شرما اور نوین کمار اسلاموفوبیا کے بنیادی تخلیق کار نہیں ہیں۔ یاد رکھیں، وہ راجہ کے تئیں زیادہ وفادار نظر آنے کی کوشش کر رہے تھے۔
کانگریس کے ترجمان آر ایس سرجے والا نے کہا کہ نوپور شرما اور نوین جندل کے خلاف بی جے پی کی کارروائی صرف دکھاوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ایک طرف تو مذہبی تقسیم کاری کر کے ہندوستان کی صدیوں پرانی ’وسودھیو کٹومبکم‘ کی روایت کی بے حرمتی کرتی ہے اور دوسری طرف تمام مذاہب کے احترام کا ڈھونگ کرتی ہے۔ یہ دوغلی زبان ہے۔ اسے ہی تو کہتے ہیں ’’نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی۔‘‘