ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ہمارے کچھ افسران اپوزیشن پارٹیوں سے ملے ہوئے ہیں،وزیراعلیٰ اکھلیش یادوکادعویٰ،کہا،حکومت کے منصوبے میں خلل اندازی ہورہی ہے

ہمارے کچھ افسران اپوزیشن پارٹیوں سے ملے ہوئے ہیں،وزیراعلیٰ اکھلیش یادوکادعویٰ،کہا،حکومت کے منصوبے میں خلل اندازی ہورہی ہے

Tue, 23 Aug 2016 18:42:08    S.O. News Service

 

لکھنؤ، 23؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اتر پردیش کے وزیراعلیٰ اکھلیش یادونے ریاست کی بیوروکریسی پر ایک اہم بیان دیتے ہوئے آج کہاکہ صوبے کے کچھ افسران دوسری پارٹیوں سے ملے ہیں اور وہ حکومت کے منصوبوں میں خلل ڈال رہے ہیں۔وزیرا علیٰ نے کرے ڈ ائی اور پی ایچ ڈی چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری طرف سے منعقد’ ’انفراسٹرکچر میٹ ‘‘سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جہاں تک100 نمبر کا سوال ہے، ہم تو اسے لانا چاہتے ہیں۔ ہمیں اچھے افسران بھی ملے ہیں اورکچھ خراب بھی ملے۔ لیکن میں جانتاہوں ہمارے کچھ افسران دوسری پارٹیوں سے ملے ہیں،وہ نہیں چاہتے کہ100نمبر آئے۔انہوں نے کہاکہ اگر100نمبرآگیاتوپولیس 10منٹ میں موقع پر پہنچ جائے گی، اور یہ نظام ملک کے سامنے مثال بنے گا ۔اس میں بھی وہ افسران رکاوٹ ڈال رہے ہیں، ہم نے اس کا بھی راستہ نکال لیا ہے، کیونکہ ہمارے پاس بہت شاندار چیف سکریٹری ہیں، وہ بھی دیکھیں گے کہ 100نمبر کی فائل کون لوگ روکے ہوئے ہیں۔اگر وزیراعلیٰ ان کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے تو وہ کوئی بھی فائل کلیئر کر دیں گے۔قانون وانتظام کے معاملے پر ریاستی حکومت کو گھیرنے والی بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے اکھلیش نے کہابی جے پی قانون وانتظام پر بحث کرنا چاہتی ہے ، پہلے اپنی ریاستوں کو دیکھیں، سرحد پر کتنا آپ کمزور دکھائی دے رہے ہیں۔میں نے فوجی اسکول میں تعلیم حاصل کی، میرے ساتھ پڑھنے والے لوگ فوج میں سرحدوں پرہیں،سرحدوں پر کیا حال ہے ؟َ ملک اس سے واقف ہے۔انہوں نے بی جے پی کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے اخبارات میں ایک الزام بہت پڑھا ہوگا کہ اتر پردیش میں پانچ ساڑھے پانچ وزیر اعلی ہیں۔ہم کہتے ہیں کہ بی جے پی والے اپنا ایک ہی وزیر اعلیٰ کے عہدے کا امیدوارڈھونڈ لائے ، پھر میدان میں طے ہوگا کہ کون آگے ہے اور کون پیچھے، یہ ریاست کی عوام طے کرے گی۔
اکھلیش نے کہاکہ ہم تو نئے وزیراعلیٰ ہیں ہم نے تو انڈر ٹریننگ رہ کر اتنا کام کر دیا ہے۔آنے والے وقت میں موقع ملے گاتوسوچئے اور کتنا کام کریں گے، ہم اور شفافیت سے کام کریں گے، پھر ہم پر کوئی انگلی بھی نہیں اٹھا سکے گا، ہم کام کی بنیادپرعوام کے درمیان جانا چاہتے ہیں، لیکن دوسری پارٹیاں حالات کو دوسری سمت میں لے جانا چاہتی ہیں۔انہوں نے بی جے پی پر اپنا حملہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ریاست میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور بی جے پی یاترائیں نکال رہی ہے۔سب نے 15؍اگست کو پرچم کشائی کی تھی ، بی جے پی کے لوگ جانے کب تک پرچم لہرائیں گے ، ہم اس کے خلاف نہیں ہے، لیکن یہ لوگ ملک کو کس طرف لے جانا چاہتے ہیں، اچھے دن کی کوئی تعریف ہو تو بتائیں۔وزیراعلیٰ نے کانگریس کوبھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ کانگریس نے کہا کہ ہم اونچی ذات کے شخص کو وزیراعلیٰ کے عہدے کا چہرہ بنائیں گے۔بتائیے وہ کس طرف ملک کو لے جانا چاہتے ہیں۔میڈیا پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا اتر پردیش میں بلندشہر اور متھرا کے واقعہ کو اچھالتا تھا لیکن آس پاس کے علاقوں خاص طور پر دہلی اور ہریانہ میں کیا ہو رہا ہے، اس پر توجہ نہیں دیتا۔دہلی میں ایک ہی خاتون کے ساتھ دو بار واقعہ ہوا، اس کا کسی نے نوٹس نہیں لیا، میڈیا کی توجہ صرف اتر پردیش پرہے۔اکھلیش نے میڈیا پر سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ میڈیاکی آمدنی کہاں سے ہوتی ہے، لیکن ان کو غیر جانبداری کے ساتھ ساری چیزیں دیکھنی چاہیے۔


Share: