ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ہماری شناخت اسلامی تعلیمات کواپناکرہی ہے ،اے ایم یوکے ساتھ تعاون کیلئے ہرطرح سے تیارہوں

ہماری شناخت اسلامی تعلیمات کواپناکرہی ہے ،اے ایم یوکے ساتھ تعاون کیلئے ہرطرح سے تیارہوں

Sun, 21 Aug 2016 19:39:20    S.O. News Service

کورٹ کے رکن مولانامحمدولی رحمانی نے رحمانی 30 کے طرزپراہم امتحانات کی کوچنگ کی وائس چانسلرکویقین دہانی کرائی,اے ایم یو میں’مسلم پرسنل لاء کی معنویت اور قانونی فطرت سے ہم آہنگی ‘‘کے موضوع پر علماء ودانشوران کاخطاب

ؑ ؒ علی گڑھ21اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ہماری پہچان دین اور اسلام کے بتائے ہوئے طور طریقوں پر عمل کرنے سے ہے۔ اسی سے ہمارے معاشرے کی تہذیب بنی ہے۔اسلامی تہذیب پردہ دری کی نہیں بلکہ پردہ داری کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کورٹ ممبرامیرشریعت مولانا محمدولی رحمانی نے آرٹس فیکلٹی لاؤنج میں’آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ‘اورسر سید اویئرنیس فورم ‘کے مشترکہ تعاون سے منعقد پروگرام’’مسلم پرسنل لاء کی معنویت اور اس کی قانونی فطرت سے ہم آہنگی ‘‘کے صدارتی کلمات میں کیا۔واضح ہوکہ مولانامحمدولی رحمانی چوتھی باراے ایم یوکورٹ کے ممبرنامزدہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عورتیں اپنے دائرے میں رہ کر چاہے جتنی تعلیم حاصل کرسکتی ہیں۔تعلیم کے معاملے میں حضرت محمد نے کبھی کوئی پابندی عائد نہیں کی۔ اسلام مذہب میں تعلیم کے تعلق سے خواتین کوبھی مردوں کی طرح مساویانہ کاحق حاصل ہے۔اسلام نے عورتوں کو خاص تحفظ اور احترام بخشا ہے لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ تہذیب کے نام پرمردوں نے تو گلے کے بٹن بند کرکے ٹائی تک پہن لی ہے اورخواتین کے کپڑوں کا ایک ایک تاراتاراجارہاہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا ولی رحمانی نے کہاکہ اس ادارے کی خیر میں ہمیشہ ہمارا ساتھ رہا ہے اور اقلیتی کردار کی لڑائی میں پہلے بھی ہم نے یونیورسٹی کا ساتھ دیا ہے اور انشاء اللہ آج بھی ہر طرح کے تعاون کے لیے کوشاں ہیں۔مولاناولی رحمانی نے’ رحمانی- 30 ‘ کی طرز پروائس چانسلر کو یونیورسٹی میں آئی آئی ٹی،سی اے،یوپی ایس سی،این ڈی اے کی کوچنگ شروع کرنے کی یقین دہانی کرائی۔انہوں نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر طلبہ کے روشن مستقبل کے لیے کوشاں ہیں اور اس ضمن میں وہ مسلسل مثبت قدم اٹھا رہے ہیں۔ہمارا یہ قدم بھی یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ کے تعاون سے کارگر ثابت ہوگا۔مسلم پرسنل لاء بورڈ کے پروگرام کو مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ نے کہا کہ اسلام نے ہمشیہ خواتین کی عزت و احترام کا پر خاص زور دیا ہے۔موجودہ دور میں بھی خواتین تعلیمی طور پر طاقت بخش کر مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔طلاق کے حوالے سے اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ اسلام طلاق سلسلے میں خواتین کو بھی خلع کا حق دیتا ہے لیکن ہندوستان میں ابھی یہ عام نہیں ہے۔اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے لیکن بڑے ہی افسوس کی بات ہے کہ ایک سے زائد بیوی رکھنے کا مسلمانوں پر الزام عاید کیا جاتا ہے لیکن دیگر مذاہب کے لوگ صرف دوسری شادی کے لیے ہی اسلام کا چولا پہن کر اس پاک مذہب کی روح کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔انہوں نے پروفیسر شکیل صمدانی کو شریعت کے تعلق سے کامیاب پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد بھی پیش کی۔
بی اے ایل ایل بی کے کورس میں مدارس کے طلبہ کے لیے پانچ فیصد ریزرویشن قائم کیے جانے کے حوالے سے یونیورسٹی کے وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ نے کہا کہ برج کورس سے مدارس کے بچوں کو تعلیمی میدان میں مضبوطی ملی ہے اور وہ اپنی ذہانت اور قابلیت کے دم پر داخلہ جاتی امتحانات میں کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔اسی کا نتیجہ ہے کہ برج کورس کے بچوں نے جامعہ ملیہ اسلایہ،نئی دہلی،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ہمدرد کے مختلف پروفیشنل کورسز میں داخلہ لینے میں کامیابی حاصل کی ہے۔شیخ الجامعہ نے کہا کہ برج کورس کو مزید بہتر بنانے کی تیاریاں چل رہی ہے۔آئندہ دنوں میں مدارس سے آنے والے بچے تعلیمی طور پر اتنے مضبوط ہو جائیں گے کہ ان کو کسی طرح کے ریزرویشن کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ پروگرام کے کنوینر و مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ممبر اور سر سید اویئرنیس فورم کے صدر پروفیسر شکیل احمد صمدانی نے کہا کہ جس طرح آجکل مسلم پرسنل لاء پر حملے ہورہے ہیں اور اس میں تبدیلی کی مانگ اٹھائی جا رہی ہے وہ بے حد تشویش ناک ہے۔چونکہ مین اسٹریم میڈیا مسلمانوں کے ہاتھ میں نہیں ہے اس لیے شریعت کے تعلق سے ایسی باتیں کہی جا رہی ہیں جن کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ شریعتِ اسلامی قانونِ فطرت کے عین مطابق ہے اور اللہ تعالی نے انسان کے لیے جو ضابطہ بنایا ہے وہ بہترین اور موزوں ترین ہے۔ پروفیسر صمدانی نے مزید کہا کہ مسلمان کبھی بھی یونیفارم سول کوڈ کو قبول نہیں کرے گا اور وہ شریعت کو بچانے لیے کسی بھی طرح کی قربانی دینے سے گریز نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ ہندوستان میں مذہبی آزادی کی بنیاد محمد بن قاسم نے آج 12-13سو سال پہلے رکھی تھی جسے دورِ سلطنت،مغلیہ دور کے بعد انگریزوں نے بھی جاری رکھا اور ملک آزاد ہونے کے بعد دستورِ ہند میں بھی جاری رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ کچھ غیر ذمہ دار اور بھٹکے ہوئے لوگوں کی وجہ سے اسلام بدنام ہو رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے معاملات کو ٹھیک کریں اور اسلامی اصولوں پر عمل کریں یہی مسئلہ کا حل ہے۔اخیر میں انہوں نے کہا کہ اس سمینار کا مقصد وکلاء،قانون کے گریجوؤٹ، ریسرچ اسکالرز اور سماجی کارکنان کو اسلام کے اصل قانون سے آگاہ کرانا ہے۔
کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری مولانا خالدسیف اللہ رحمانی نے قرآن و حدیث کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اسلامی قانونِ نظام کو دنیا کا سب سے بہترین قانون بتایا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تشکیل اسلام کے شرعی قانون کے نفاذ کے لیے کی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام عدل اور مساوات کو خاص ترجیح دیتا ہے۔مولانا خالد سیف رحمانی اللہ نے میراث کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں خواتین کے مقابلے مردوں پر ذمہ داریاں زیادہ عاید ہوتی ہیں اسی تناسب سے مرد اور عورت کی میراث میں تفریق کی گئی ہے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مردوں کو کم حصہ ملتا ہے اور عورتوں کو زیادہ حصہ ملتا ہے۔انہوں نے اسلامی قانون اور شریعت کو قانون فیلٹی کے طلبہ کو سمجھانے کے لیے مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے دو روزہ سمینار کے انعقاد کی بات بھی وائس چانسلر صاحب کے سامنے رکھی۔مہمانانِ اعزازی وجامعہ ہدایہ کے ریکٹر مولانافضل الرحمن مجددی نے مغربی اور اسلامی تہذیب کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹام بی نے اپنی کتاب ’ویسٹرن سولائزیشن‘ میں ایسے حوالے پیش کیے جن اسلام کے مقالبے میں مغربی تہذیب کو خطرہ لاحق بتایا ہے۔انہوں نے اسلامی قانونِ نظام کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے معاشرے میں عورتوں کو آزادی کی بجائے تحفظ کی خاص ضرورت ہے۔ مولانا مجددی نے اسلامی قانون اورطلاق کے حوالے سے اسرائلی اسکالرز کی رپورٹ کو بھی عام کیا جس میں انہوں نے اسلام کے متعلق عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔مولانامجددی نے تجویز پیش کی کہ اگر مسلم یونیورسٹی شعبۂ قانون میں مدارس کے پانچ طلبہ کو داخلہ دیتی ہے تو وہ اس کا پورا خرچ برداشت کرنے کو تیار ہیں۔مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ممبر مولانا محمد عتیق احمدبستوی نے کہا کہ آج ملک میں یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ اسلامی معاشرے کے لیے بے حد نقصان دہ ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ قرآن شریف کو سمجھ کر پڑھنے کی ضرورت ہے ۔ قرآن شریف میں دین اور دنیا دونوں کی کامیابی کے راز پنہا ہیں۔اسلامی معاشرے میں پنپ رہے مسائل کے خاتمہ کے لیے اپنی نفس اور خواہشات پر بندش لگانے کی سخت ضرورت ہے۔جو قوم اور طبقے اپنی نفسی خواہشات کے لیے ہم جنس پرستی کو فروغ دے رہے ہیں وہ بہت جلد بربادی کے دہانے پر ہوں گی۔مولانا عتیق بستوی نے کہا کہ قرآن شریف میں طلاق،نکاح اور میراث کے مسائل کو صاف صاف اور وضاحت کے ساتھ بیان کیاہے۔انہوں نے طلاق پرتفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ طلاق اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ نا پسندیدہ عمل ہے اور ایک ساتھ تین طلاق دینامناسب نہیں ہے۔پروگرام کا آغاز قاری شعیب کے ذریعہ تلاوتِ کلام پاک سے کیا گیا۔اخیر میں مولانا عبید عاصم اقبال نے تمام مہمانان کا شکریہ ادا کیا۔اس موقعہ پرجے این میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر طارق منصور،فکلیٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر شیخ مستان،پروفیسرعاصم صدیقی،پروفیسر عبدالعلیم،کورٹ ممبر پروفیسر ہمایوں مراد،ڈاکٹر شارق عقیل،پروفیسر صلاح الدین قریشی، پروفیسر عبد الخالق،پروفیسر توقیر عالم فلاحی،ڈاکٹر نسیم احمد خان،ڈاکٹر محمد صادق اختر،ڈاکٹر ریحان اختر،ڈاکٹر ندیم اشرف،قاری عبد اللہ،پروفیسر نفیس احمد،دلشاد احمد(سعودی عرب)،ڈاکٹر نجم الدین انصاری،پروفیسر مسعود احمد۔عبداللہ صمدانی،طلعت انجم،ایڈووکیٹ اسلام خان،ایڈووکیٹ حسین احمد،سر سید اویئرنیس فورم کے سکریٹری شعیب علی،وائس چانسلر کی اہلیہ محترمہ صبیحہ سیمی شاہ،انجم تسنیم،عائشہ صمدانی غیرہ بھی موجود تھیں۔


Share: