ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / ہریانہ کے مرچ پور گاؤں میں دلتوں پر پھر حملہ، 9افراد زخمی، 15لوگوں کے خلاف ایف آئی آردرج

ہریانہ کے مرچ پور گاؤں میں دلتوں پر پھر حملہ، 9افراد زخمی، 15لوگوں کے خلاف ایف آئی آردرج

Tue, 31 Jan 2017 23:18:47    S.O. News Service

حصار /ہریانہ، 31/جنوری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) ہریانہ کے مرچ پور گاؤں میں دلت پر مظالم کا واقعہ سامنے آیا ہے۔اس بار گاؤں میں کسی معاملے پر کہا سنی ہو جانے کے بعد تقریباََ20لوگوں کی طرف سے کئے گئے مبینہ حملے میں دلت کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے تقریبا 9 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ اس گاؤں سے سی آر پی ایف کے جوانوں کو گزشتہ ہی ماہ ہی ہٹایا گیا ہے۔یہ فورس 6 سال پہلے نسلی تشدد میں دو لوگوں کو زندہ جلا دئیے جانے کے بعد سے تعینات تھی۔پولیس نے کہا کہ پیر کی رات کو گاؤں والے ایک سائیکل شو دیکھ رہے تھے،تبھی وہاں موجود لوگوں نے ریس جیتنے والے ایک دلت نوجوان پر مبینہ طور پر نسلی تبصرہ کر دیا۔پولیس نے کہا کہ جب دلتوں نے اس پر اعتراض کیا تو دوسری کمیونٹی کے کچھ لوگوں نے ان پر حملہ کر دیا۔انہوں نے کہا کہ واقعہ کے بعد بڑی تعداد میں دلت مرچ پور پولیس چوکی کے باہر جمع ہو گئے اور انہوں نے مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔واقعہ کی اطلاع ملنے پر رات کے وقت پولیس سپرنٹنڈنٹ راجندر کمار مینا اور ڈپٹی کمشنر نکھل گجراج نے دیگر حکام اور پولیس فورس کے ساتھ گاؤں میں پہنچ کر مقامی لوگوں سے ملاقات کی۔ایس پی نے کہا کہ گاؤں میں حالات کنٹرول میں ہیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے مزید پولیس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔پولیس سپرنٹنڈنٹ کے مطابق، مرچ پور چوکی کے انچارج کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ایس پی مینا نے کہا کہ ایک زخمی شخص کو اگروہا میڈیکل کالج میں بھرتی کرایا گیا ہے جبکہ معمولی طورپر زخمی پانچ دیگر کو سول اسپتا ل میں داخل کرایا گیا ہے۔اس بارے نارنوند پولیس چوکی میں 15لوگوں کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 148(فساد کرنا) 149(غیر قانونی طریقے سے جمع ہوکر جرم کرنا) 323(جان بوجھ کر چوٹ پہنچانا)324(جان بوجھ کر خطرناک ہتھیاروں یا ذرائع سے چوٹ پہنچانا)اور ایس سی /ایس ٹی قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔اس معاملے میں متاثرہ فریق کی طرف سے وکیل رجت کلسن نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ ہم اس معاملے میں گاؤں میں جا کر پہلے حقائق کا پتہ لگائیں گے اور پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں عرضی دائر کر کے گاؤں میں دوبارہ سے سی آر پی ایف تعینات کئے جانے، متاثرین کو سیکورٹی فراہم کرنے اور معاملے کی کسی آزاد ایجنسی سے جانچ کرائے  جانے کا مطالبہ کریں گے۔قابل ذکرہے کہ مرچ پور گاؤں میں تقریبا 7 سال پہلے نسلی تشدد میں دو لوگوں کو زندہ جلا دیا گیا تھا،  اس کے بعد گاؤں میں امن بحال کرنے کے لیے سی آر پی ایف کے جوانوں کو تعینات کیا گیا تھا، لیکن گزشتہ ہی سال انہیں ہٹا لیا گیاتھا۔
 


Share: