نئی دہلی، 21؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ہریانہ راجیہ سبھا انتخابات میں سیاہی تنازعہ کے بعد الیکشن کمیشن کی طرف سے قائم ایک ورکنگ گروپ نے مستقبل کے انتخابات میں اس طرح کے تنازعات سے بچنے کے لیے ایک خصوصی قلم کے استعمال سمیت کئی متبادل کی سفارش کی ہے۔تنازعہ ابھر کر سامنے آنے کے فورا بعد، کمیشن نے اس طرح کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے متبادل کی تجویز پیش کرنے کے لیے حکام پر مشتمل ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا تھا۔ایک غلط قلم سے دیئے گئے 12ووٹوں کو غیر قانونی قرار دے دیاگیاتھا جس کی وجہ سے کانگریس کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار وکیل آر کے آنند کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا ۔الیکشن کمیشن کاحکم ہے کہ رازداری کو یقینی بنانے کے لیے سبھی ایک بینگنی رنگ کے قلم سے ووٹ دیں ۔سرکاری ذرائع نے بتاایا کہ اب ورکنگ گروپ نے ووٹنگ کے لیے کے لیے ایک ایسے قلم کے استعمال کی سفارش کی ہے کہ جس پر الیکشن افسر کا دستخط یاالیکشن کمیشن آف انڈیا لکھا ہونا چاہیے ۔گروپ نے راجیہ سبھا انتخابات کے لیے ایک جگہ دو مبصرین کو مقرر کرنے کی سفارش کی ہے۔الیکشن ختم ہونے کے بعد اس قلم کو بیلٹ پیپر کے ساتھ واپس لے لیا جائے گا۔