ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گیانواپی معاملہ: ہندو فریق پہنچا سپریم کورٹ عرضی داخل کرکے کہا:”بغیر ہماری بات سنے فیصلہ نہ سنایا جائے“

گیانواپی معاملہ: ہندو فریق پہنچا سپریم کورٹ عرضی داخل کرکے کہا:”بغیر ہماری بات سنے فیصلہ نہ سنایا جائے“

Wed, 17 May 2023 11:12:46    S.O. News Service

الہ آباد، 17/ مئی (ایس او نیوز/ایجنسی) الہ آباد ہائی کورٹ نے مبینہ شیولنگ کی کاربن ڈیٹنگ کرانے کا فیصلہ سنا دیا ہے اور یہ ضلع جج پر چھوڑ دیا ہے کہ کاربن ڈیٹنگ کا عمل کب انجام دیا جائے گا- ہائی کورٹ نے ساتھ ہی ضلع کورٹ سے کہا تھا کہ وہ 22مئی کو معاملے پر سماعت کرے- لیکن اب اس سے پہلے ہندو فریق نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے- ہندو فریق نے عدالت عظمیٰ میں کیویٹ پٹیشن داخل کی ہے جس میں گزارش کی گئی ہے کہ اگر دوسرا فریق (مسلم فریق)ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج پیش کرتا ہے تو اس دوران عدالت ان کی(ہندو فریق کی)بھی بات سنے- یعنی ہندو فریق کی بات سنے بغیر عدالت کے ذریعہ کوئی فیصلہ نہ سنایا جائے-

قابل ذکر ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ دنوں شیولنگ کا سائٹنفک سروے کرانے کا حکم صادر کیا تھا- اس سروے سے پتہ لگانے کی کوشش ہوگی کہ کیا وہ ڈھانچہ مسجد کی تعمیر کے پہلے کا ہے یا پھر مسجد کی تعمیر کے وقت ہی بنایا گیا تھا- ہائی کورٹ نے وارانسی کے ضلع جج کو 22مئی کو معاملے کی سماعت کرنے کا حکم دیا تھا، اور ساتھ ہی کہا تھا کہ مبینہ شیولنگ کی کاربن ڈیٹنگ کب ہوگی، یہ ضلع جج ہی طے کریں گے-

الہ آباد ہائی کورٹ نے مذکورہ فیصلہ اے ایس آئی کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ کی بنیاد پر دیا تھا- دراصل عدالت میں اے ایس آئی نے کہا تھا کہ سائنٹفک سروے آسانی سے کیا جا سکتا ہے- انھوں نے یہ بھی کہا کہ سائنٹفک سروے کے دوران ڈھانچہ کو کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچایا جائے گا-

اس درمیان وارانسی ضلع کورٹ نے پورے گیانواپی مسجد احاطہ کے اے ایس آئی سروے کی عرضی کو منظور کر لیا ہے- ہندو فریق کی طرف سے دی گئی عرضی پر وارانسی ضلع کورٹ میں 22مئی کو آئندہ سماعت کی جانی ہے- ہندو فریق کے وکیل وشنو جین نے پورے مسجد احاطہ کا سروے کرانے کی بات کہی ہے، حالانکہ مسلم فریقین کی طرف سے اس کی مخالفت کی جا رہی ہے- ایک رپورٹ میں بتایا جا رہا ہے کہ مسلم فریق اس معاملے پر 19مئی کو عرضی داخل کر سکتے ہیں - اس میں وہ اے ایس آئی سے سروے کے مطالبہ کو چیلنج پیش کر سکتے ہیں -


Share: