وارانسی ، 16/مئی(ایس او نیوز/ایجنسی) وارانسی میں واقع گیانواپی مسجد تنازعہ کے تعلق سے ضلعی کورٹ نے ایک اہم عرضی کو منظوری دے دی ہے جس کے تحت گیانواپی مسجد میں پائے گئے تالاب میں لگے پانی کے پائپ کو جسے ہندو فریق شیولنگ قرار دے رہا ہے، اُس پائپ کے ساتھ ساتھ پورے احاطہ کا اے ایس آئی سروے کیا جا سکتا ہے۔ اس معاملے میں عدالت نے مسلم فریق کو اعتراض درج کرنے کے لیے 19 مئی تک کی مہلت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے عرضی پر سماعت کے لیے 22 مئی کی تاریخ مقرر کی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ ہفتہ کہا تھا کہ وارانسی کی گیانواپی مسجد کے تالاب میں لگے پانی کے پائپ کا سائنسی سروے کیا جا سکتا ہے۔ جس کو ہندو فریق شیولنگ قرار دے رہا ہے ۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اس پائپ کو یا ڈھانچہ کو کسی طرح کا نقصان پہنچائے بغیر کاربن ڈیٹنگ کا عمل انجام دیا جائے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال مئی میں وارانسی سول کورٹ کے ذریعہ دیئے گئے حکم کے بعد مسجد احاطہ کا ایک سروے کیا گیا تھا جس میں وضو کرنے والے تالاب میں موجو د مذکورہ پانی کے پائپ کو لے کر ہندو فریق نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ہی شیولنگ ہے۔ ہندو فریق کا ماننا ہے کہ شیو نگری کہی جانے والی وارانسی میں یہ ڈھانچہ بھگوان شیو کی موجودگی کا اظہار ہے، اس لیے اس کی جانچ ہونی چاہیے۔