ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گجرات: زیر حراست شخص کی موت کے بعد 3 پولیس اہلکاروں پر درج ہوا قتل کا معاملہ؛ مرنے سے پہلے گھروالوں کو دی تھی بری طرح پیٹائی کی جانکاری

گجرات: زیر حراست شخص کی موت کے بعد 3 پولیس اہلکاروں پر درج ہوا قتل کا معاملہ؛ مرنے سے پہلے گھروالوں کو دی تھی بری طرح پیٹائی کی جانکاری

Tue, 16 May 2023 17:38:42    S.O. News Service

احمد آباد ، 16/مئی(ایس او نیوز/ایجنسی) گجرات کی ایک جیل میں زیر حراست شخص کو اس قدر پولیس کی زد و کوب کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ موت کی نیند سو گیا۔ معاملہ گجرات کے بوٹاڈ ضلع میں  واقع جیل کا ہے جہاں 28 سالہ شخص کی موت مبینہ طور پر حراست میں پٹائی کی وجہ سے ہو گئی ہے۔ اس معاملے میں تین پولیس کانسٹیبل کے خلاف قتل کا کیس درج کیا گیا ہے۔

ایک افسر کا کہنا ہے کہ گزشتہ 14 اپریل کو ایک معاملے میں پوچھ تاچھ کے لیے بوٹاد ٹاؤن پولیس اسٹیشن سے منسلک تین کانسٹیبل نے مزدور کالو پدھرشی کو اس کے گھر سے اٹھا کر لایا تھا۔ بعد میں پدھرشی نے پولیس پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے پوچھ تاچھ کے بہانے اس کو بری طرح سے پیٹا تھا۔ گزشتہ 14 مئی کو احمد آباد کے ایک اسپتال میں علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔ بوٹاد ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کشور بلولیا کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ تینوں ملزمین (امیراج بوریچا، راہیل سدھارتا اور نکل سنگھ جادھو) پر پدھرشی کے قتل کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ پدھرشی نے پیر کے روز شکایت کی تھی کہ 3 کانسٹیبل ایک معاملے کی جانچ کر رہے تھے۔ انھیں ایک شخص کے بارے میں جاننا تھا۔ جب پدھرشی نے اس شخص کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہونے کی بات کہی تو پولیس نے اس سے موٹر سائیکل کے رجسٹریشن کے کاغذات دکھانے کے لیے کہا۔ چونکہ سبھی پولیس والے سول ڈریس میں تھے اس لیے پدھرشی نے انھیں اپنا شناختی کارڈ دکھانے کے لیے کہا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اس کے مطالبہ سے ناراض کانسٹیبلوں نے مبینہ طور پر اس کی پٹائی شروع کر دی اور اسے تھانے لے گئے۔ حالانکہ پولیس نے اسی دن اس کو چھوڑ بھی دیا تھا۔

بتایا جا رہا ہے کہ مزدور نے گھر پہنچ کر  اپنے گھر والوں کو بتایا  کہ حراست کے دوران اسے بے رحمی سے پیٹا گیا اور پوچھ تاچھ کے دوران اس کا سر دیوار سے پٹخ دیا گیا تھا۔ بعد میں اس کی حالت بگڑنے لگی تو اسے  پہلے 17 اپریل کو بوٹاد کے ایک اسپتال اور پھر بھاؤنگر شہر کے ایک سرکاری اسپتال میں ریفر کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ اسے برین ہیمریج  ہوا ہے۔ 20 اپریل کو اسے  احمد آباد سول اسپتال ریفر کیا گیا جہاں اس کی برین سرجری کی گئی۔ مگر  علاج کے دوران 14 مئی کو اس کی موت ہو گئی۔


Share: