بروڈا 27؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) ریاست گجرات کے وڈودرا کی ایم ایس یونیورسٹی کے ایک کونے پر دو لوگوں کے نماز پڑھنے پر وشواہندو پریشد کے کارکنوں نے تنازع کھڑا کردیا اور کیمپس کے اندر رام دھون اور ہنومان چالیسہ کا ورد کرتے ہوئے اپنا احتجاج درج کیا۔ جس کے بعد یونیورسٹی کے ویجی لینس اور پولس نے موقع پر پہنچ کر معاملے کو سنبھال لیا۔
ذرائع سے ملی ا طلاع کے مطابق جیسے ہی نماز پڑھنے کی ویڈیو کسی نے سوشیل میڈیا پر وائرل کی۔ وشواہندو پریشد کے کارکنوں نے نے تنازعہ کھڑا کر دیا - پتہ چلا ہے کہ کامرس ڈپارٹمنٹ کے امتحان میں بیٹھنے کیلئے آنے والے 2طلبہ نے پیر کے روز کیمپس میں نماز پڑھی تھی، ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے کارکنوں نے کیمپس میں رام دھون اور ہنومان چالیسہ کا ورد کیا-معاملے کی حساسیت کے پیش نظرحالات پر قابو پانے کے بعد یونیورسٹی کے ویجی لنس عملہ کے ساتھ پولیس ٹیم بھی موقع پر پہنچ گئی-
تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ نماز پڑھنے کی یہ ویڈیو فیکلٹی آف کامرس کی جنرل ایجوکیشن کی عمارت کے عقبی حصے کی ہے- یہاں دو طلبہ نے امتحان سے پہلے نماز پڑھی تھی-ایم ایس یونیورسٹی کے ترجمان لکولش ترویدی نے بتایا کہ فیکلٹی آف کامرس میں بی کام کے مڈ سمسٹر کے امتحانات جاری ہیں -
معاملہ کو یہ کہہ کر ختم کرنے کی کوشش کی گئی کہ یونیورسٹی طلبا کی کونسلنگ کرے گی اور انہیں سمجھائے گی کہ یہ ایک تعلیمی مرکز ہے اور انہیں اسے مذہبی میدان میں نہیں بدلنا چاہیے- یہاں وہ اپنی تعلیم مکمل کر کے آگے بڑھتے ہیں -
بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری کیلاش وجے ورگیہ وڈودرا آئے ہیں - اس واقعہ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کا میدان بہت مقدس میدان ہے- اس لیے یہاں متنازعہ باتوں اور کاموں سے گریز کرنا چاہیے-دو دن پہلے ایم ایس یو یونیورسٹی کیمپس میں سنسکرت کالج کے گیٹ کے سامنے ایک نوجوان اور ایک نوجوان خاتون کا کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کا ویڈیو وائرل ہوا تھا- البتہ نماز کالج کے باہر ادا کی گئی تھی جس کی وجہ سے زیادہ ہنگامہ نہیں ہوا-