ممبئی 2/نومبر (ایس او نیوز) گجرات کے مور بی ضلع کی ما چوندی پر واقع جھولتے پُل کے منہدم ہونے کے بعد مقامی مسلم نوجوانوں نے جان پر کھیل کر راحت اور بچاؤ کے کاموں میں حصہ لیا اور کئی زندگیاں بچائیں۔ ان کی اس انسانیت دوستی کی چہار جانب ستائش کی جارہی ہے۔ خدمت خلق کے اس عمل میں حصہ لینے والے مسلم نو جوان ایک دو یا چار نہیں بلکہ ان کی تعداد ۵۰ سے زائد ہے۔ اس کی تصدیق جائے حادثہ کے قریب واقع بستی میں مقیم موربی مسلم سماج کے صدرغلام حسین پلوڈیا نے اخبارنویسوں سے بات چیت کے دوران بتائی۔ ان کے مطابق ان نوجوانوں کی فہرست ان کے پاس موجود ہے جنہوں نے ڈوبنے والوں کو بچانے کے ساتھ ساتھ راحتی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
ممبئی کے معروف اُردو روزنامہ انقلاب کی رپورٹ کے مطابق مکرانی سماج کے رہنے والوں کی بستی اورمیاڑا سماج کےماہی گیرجاۓ حادثہ سے محض ۵۰۰ میٹر کی دوری پر آباد ہیں۔ غلام حُسین نے بتایا کہ ٹوٹنے والا پل ہمارے گھروں سے نظر آتا ہے۔ جس وقت پل ٹوٹا اورشور بلند ہوا مذکورہ دونوں سماج کے نوجوان اپنی جان کی پروا کئے بغیر دوڑے اور دریا میں کود کر کئی افراد کی جان بچائی جن میں چھوٹے بچوں کی بڑی تعداد ہے۔ راحت اور بچاؤ کے کام میں انہوں نے اپنی مچھلی پکڑنے والی کشتیوں کا بھی بھر پور استعمال کیا۔ غلام حسین کے مطابق سرکاری سطح پر بچاؤ کا کام توکافی دیر بعد شروع ہوا، پہلے ہمارے نوجوانوں نے اپنے طورپر راحت اور بچاؤ کا کام شروع کیا اور کئی لوگوں کو بچایا اور لاشیں نکالنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر توفیق شیخ، حسین پٹھان اور نعیم شیخ کا خاص طور پر ذکر کیا جارہا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ ان تینوں نے کئی افراد کی اکیلے جان بچائی۔آج تک کی خبر کے مطابق اکیلے نعیم شیخ نے ۳۰ سے ۴۰ ا فراد کو بچایا جبکہ توفیق شیخ مسلسل ایجنسیوں کے ساتھ بچاؤ کام میں مصروف تھا۔ حسین پٹھان نے تیر کر کئی لوگوں کو کنارے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس وقت بھی مقامی مسلم نوجوان اور دیگر لوگ اپنے اپنے طور پر راحت رسانی میں مصروف ہیں۔ کچھ لوگ اسپتالوں میں ضرورت مندوں کی مدد کررہے ہیں تو کچھ اور دیگر کام میں لگے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ سرکاری امداد دلوانے میں متاثرین کے اہل خانہ کی مدد کرر ہے ہیں۔
یہ اطلاعات بھی ہیں کہ مہلوکین میں 40 مسلمان بھی شامل ہیں۔ مقامی اسپتال میں موجود ایڈوکیٹ حسین احمد نے بتایا کہ اس وقت یہاں بلا تفریق مذہب سبھی راحت رسانی میں مصروف ہیں اور جو جس لائق ہے وہ اپنے کام میں لگا ہوا ہے ۔حادثے کے تیسرے دن بھی لوگوں کی زبان پر اس حادثے کی دردناک یادیں ہی موضوع بحث ہیں۔ یہ ایسا دلخراش حادثہ ہے جس میں بہت سے لوگوں نے اپنوں کو کھویا ہے، وہ غموں سے نڈھال ہیں ، محلے کے بڑے بزرگ ان کی ڈھارس بندھارہے ہیں جبکہ حکومت کے غیر ذمہ دارانہ رویہ کے سبب لوگوں میں ناراضگی بھی پائی جارہی ہے ۔
جاۓ حادثہ کے چند کلومیٹر کی دوری پر واقع وانکانیر میں مدرسہ جامع العلوم کے سر براہ اور جمعیۃ علما ضلع راجکوٹ کے صدرمولانانورمحمد نے بتایا کہ ہر طرف مقامی نوجوانوں کی بہادری اوران کی زبردست خدمات کے چرچے ہیں۔ دراصل یہ بلوچی پٹھانوں کی نسلیں ہیں جو یہاں آباد ہیں۔ یہ بہت محنت کش اور بہادر ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ دریا کے کنارے آباد ہیں اس لئے راحت رسانی کے لئے سب سے پہلے یہی لوگ پہنچے اور انہوں نے دن رات محنت کی ۔ ادھر مقامی اخبارات میں بھی ان نو جوانوں کی بہادری کے چرچے ہیں۔ انہیں بلالحاظ مذہب لوگوں کی جان بچانے پرفرشتہ تک قراردیا جارہا ہے۔ مقامی گجراتی اخبارات ان نو جوانوں سے خصوصی گفتگو کر رہے ہیں اور ان کی تصاویر کونمایاں طورپر شائع کررہے ہیں۔