احمد آباد، 20اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)احمد آباد سے محض 40کلومیٹر دور بھاورا گاؤں میں 15سال کے دلت لڑکے کی وحشیانہ پٹائی کرنے کی واردات پیش آئی ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق گاؤں کے دو لوگوں نے اسے صرف اس وجہ سے پیٹا کہ اس کے باپ نے مردہ جانوروں کو اٹھانا بند کر دیا ہے۔لڑکے کے جسم پر زخم کے نشان اس پر ہوئے ظلم کی کہانی بیان کر رہے ہیں۔اس واقعہ کو 48گھنٹے گزر چکے ہیں لیکن وہ اب بھی خوف میں ہے۔اس نے بتایا کہ دو روز قبل اچانک اسے روک کر گاؤں کے دو لوگوں نے اس سے پوچھا کہ ان لوگوں نے مردہ جانوروں کو اٹھانا کیوں بند کر دیا ہے۔جب اس نے بتایا کہ اس کا معاشرہ اب یہ کام نہیں کرے گا، تو اس کی جم کر پٹائی کی گئی۔ متاثرہ لڑکے کے والد دنیش پرمار کا کہنا ہے کہ واقعہ سے پورے گاؤں کے دلتوں میں خوف کا ماحول ہے،گاؤں میں او بی سی کمیونٹی کا دبدبہ ہے۔پرمار کا کہنا ہے کہ انہوں نے اونا ظلم کے واقعہ کے بعد سے ہی مردہ جانوروں کو اٹھانے کا کام بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس درمیان پولس نے دونوں ملزم ساحل ٹھاکور اور سرور پٹھانے کو گرفتار کر لیا ہے، لیکن دلت خاندانوں میں ڈر ہے کہ ملزم کے خاندان ان سے بدلہ لے سکتے ہیں۔