کوٹایم؍کیرالہ،19؍دسمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)سرکاری پالی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ میں ریگنگ کے ایک معاملے میں ملزم 7 طلباء میں سے 5 نے پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے، اس معاملے میں پہلے سال کے ایک طالب علم کا گردے خراب ہو گیا تھا۔پولیس نے بتایا کہ کل رات پانچ سینئر طلبا نے چنگ شیری کے نزدیک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ۔پولیس کے مطابق اس معاملے میں کل 7 طلبا ملزم ہیں جن میں سے دو اب بھی فرار ہیں۔نٹاکوم میں واقع پالی ٹیکنک میں 2 ؍دسمبر کی رات بوائز ہاسٹل میں پہلے سال کے 8 طلبا کے ساتھ مبینہ طور پر سینئر طلباکے ایک گروپ نے ظالمانہ طریقے سے ریگنگ کی تھی۔ان میں سے دو طلبا شدید زخمی ہو گئے تھے ،جن میں سے ایک ترشور ضلع کے ارنجالاکوڈ ا کا رہنے والا ہے اور دوسرا ایرناکلم ضلع کے چیرانالو ر کا ہے، دونوں ہی طالب علموں کو اسپتا ل میں داخل کرایا گیا ہے ۔پولیس نے بتایا کہ ان میں سے ارنجالاکوڈ ا کے طالب علم کے گردے کو کافی نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے طالب علم کے گردے کو نقصان پہنچنے کی بات کا پتہ چلنے کے بعد اسے ڈائلسس پر رکھا، جہاں گزشتہ 11دنوں میں تین بار اس کا ڈائلسیز کیا جا چکا ہے۔ملزمان نے مبینہ طور پر متاثرہ طالب علم کو شراب پینے کے لیے مجبور کیا تھا جس میں کچھ نقصان دہ پاؤڈر ملا ہوا تھا۔انہوں نے ان طالب علموں کے ساتھ تقریبا چھ گھنٹے تک ظالمانہ طریقے سے ریگنگ کی تھی۔پولیس کے مقدمہ درج کرنے کے بعد سے ہی یہ ملزمان فرار تھے۔انہیں انسٹی ٹیوٹ سے بھی معطل کر دیا گیا ہے۔پولیس نے بتایا کہ دو طالب علموں کے دو الگ الگ شکایتیں درج کرانے کے بعد ملزمان کے خلاف دو الگ الگ مقدمات درج کئے گئے ہیں۔اس درمیان، ریاسی انسانی حقوق کمیشن نے بھی محکمہ تعلیم سے مبینہ ریگنگ کے معاملے میں رپورٹ طلب کی ہے۔