ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کیا کمٹہ میں آلوا سے کانگریس کو ہوگا نقصان؟! - مقامی لیڈران اور کارکنان میں پائی جارہی ہے بے اطمینانی

کیا کمٹہ میں آلوا سے کانگریس کو ہوگا نقصان؟! - مقامی لیڈران اور کارکنان میں پائی جارہی ہے بے اطمینانی

Tue, 02 May 2023 13:57:00    S.O. News Service

کمٹہ،2 / مئی (ایس او نیوز) کمٹہ اسمبلی حلقہ میں یہ چہ میگوئیاں عام ہوگئی ہیں کہ مارگریٹ آلوا نے ہائی کمان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے مقامی لیڈروں اور کارکنان کو کنارے لگا کر اپنے بیٹے نویدیت کو جس طرح آگے بڑھایا ہے اس سے اس حلقہ میں کانگریس پارٹی کی تباہی کے آثار دکھائی دینے لگے ہیں۔ 
    
جنوبی کینرا میں پیدا ہونے  والی مارگریٹ آلوا اور ان کے خاندان کا شمالی کینرا کے عوام کےساتھ بس اتنا تعلق ہے  کہ انہوں نے ایک مرتبہ اس ضلع سے پارلیمانی انتخاب جیتا تھا ۔ اس سے بڑھ  کر ضلع میں ان کی سیاسی سرگرمیاں اور خدمات انگلیوں پر گننے لائق بھی نہیں۔
    
دوسری طرف مقامی طور پر بڑا اثر رکھنے والی شاردا شیٹی کمٹہ میں کانگریسی سیاست کا ستون رہی ہیں ۔ اس کے علاوہ ہوناور علاقے سے شیوانند ہیگڈے کا مقام بھی کانگریس کے اہم لیڈروں میں کافی بلند اور مستحکم ہو رہا تھا ۔ ان کے علاوہ کارکنان اور دیگر مقامی لیڈران کے حوالے سے بھی کانگریس پارٹی تنظیمی طور پر یہاں کافی مضبوط زمین پر قدم جمائے کھڑی تھی ۔ 
    
ان حالات میں اس مرتبہ اسمبلی الیکشن میں پارٹی سے ٹکٹ حاصل کرنے والوں کی تعداد بھی خاصی تھی ۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 14 افراد نے فی کس دو لاکھ روپے پارٹی فنڈ کو عطیہ دیتے ہوئے ٹکٹ کے لئے درخواستیں دے رکھی تھیں ۔ پارٹی کارکنان  کو یقین تھا کہ ان میں سے شاردا شیٹی یا شیوانند ہیگڈے کو ضرور ٹکٹ ملے گا ۔ اور پارٹی کارکنا ن نے اس مرتبہ کمٹہ ہوناور حلقہ سے کانگریسی امیدوار کو  ہر حال میں جیت دلانے کے لئے جان لڑانے کا ارادہ کر لیا تھا ۔ 
    
مگر مقامی لیڈران اور کارکنان کو اعتماد میں لیے بغیر پارٹی ہائی کمان نے اچانک ہی مارگریٹ آلوا کے بیٹے  کو ٹکٹ کے ساتھ کمٹہ کے میدان میں اتارا ہے اس وجہ سے پارٹی کارکنان میں بد دلی اور بے اطمینانی پیدا ہوگئی ہے ۔ اس بنیاد پر سیاسی تجزیہ کار خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ مقامی لیڈروں کو کنارے لگانا اور اس علاقہ سے ایک غیر متعلقہ امیدوار کو مقابلے کے لئے اتارنا کانگریس پارٹی کے لئے تباہی کا سبب بن سکتا ہے ۔ کیونکہ اگرچہ ظاہری طور پر کانگریسی کارکنان کی ایک بڑی تعداد پارٹی امیدوار کے لئے تشہیری مہم میں مصروف نظر آ رہی ہے مگر اندرونی طور پر وہ لوگ شیوانند ہیگڈے اور شاردا شیٹی کو  درکنار کرنے سے ناراض ہیں ۔  شیوانند ہیگڈے نے تو پارٹی سے الگ ہو کر بی جے پی میں شمولیت بھی اختیار کر لی  ہے۔
    
جانکاروں کا کہنا ہے  کہ حکم عدولی کرنے کی صورت میں پارٹی کی طرف سے ضابطہ کی کارروائی کے ڈر سے بھی بعض کارکنان اور مقامی لیڈران ظاہری طور پر مارگریٹ کا ساتھ دینے پر مجبور نظر آتے ہیں ۔ لیکن اندرونی سطح پر کارکنان کی مایوسی اور ناراضی کانگریس کے لئے بڑی مہنگی ثابت ہوسکتی ہے ۔


Share: