ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کون بنے گاوزیر اعلیٰ؟ سدارامیا اور ڈی کے شیو کمار اپنی ضد پر قائم، آج راہل گاندھی کی موجودگی میں قطعی اعلان ہو گا

کون بنے گاوزیر اعلیٰ؟ سدارامیا اور ڈی کے شیو کمار اپنی ضد پر قائم، آج راہل گاندھی کی موجودگی میں قطعی اعلان ہو گا

Wed, 17 May 2023 11:07:45    S.O. News Service

نئی دہلی، 17/مئی(ایس او  نیوز) کرناٹک میں اگلا وزیر اعلیٰ کون ہو گا؟ اس سوال کا جواب امکان ہے کہ چہارشنبہ کی دوپہر تک سامنے آ جائے- منگل کے روز سابق وزیر علیٰ سدارامیا اور کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی صدر ڈی کے شیو کمار نے شام میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے سے ملاقات کر کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کیلئے اپنی اپنی دعویدار ی پیش کی جس کے بعد کانگریس قیادت نے طے کیا ہے کہ اس معاملہ میں قطعی فیصلہ لینے کیلئے چہارشنبہ کی صبح 11بجے کانگریس دفتر میں ایک میٹنگ ہو گی جس میں کھرگے، راہل گاندھی، سدارامیا، ڈی کے شیو کمار، اے آئی سی سی جنرل سکریٹریز ہوں گے اور اس میں وزیر اعلیٰ کس کو بنایا جائے گا اس کے بارے میں قطعی فیصلہ کر لیا جائے گا-

اس دوران ڈی کے شیوکمار نے نئی دہلی روانہ ہونے سے پہلے منگل کو کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ حاصل کرنے کیلئے کسی کی پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپیں گے اور نہ ہی کسی کو بلیک میل کریں گے -مسٹر شیوکمار نے ہوائی جہاز میں سوار ہونے سے پہلے یہاں نامہ نگاروں سے کہاکہ سیاست میں ہر چیز پر غور کرنا پڑتا ہے - جڑوں کے بغیر پھل نہیں ہوتا…… ہمارا مشترکہ گھر ہے، ہم تعداد میں 135ہیں - میں یہاں کسی کو تقسیم نہیں کرنا چاہتا- سونیا گاندھی ہماری آئیڈیل ہیں اور ہائی کمان وزیراعلیٰ کے چہرے کا فیصلہ کریں گے - اگر میں اہل ہوں تو وہ مجھے ذمہ داریاں دیں گے - وہ مجھے پسند کریں یا نہ کریں، میں پارٹی کا صدر اور ایک ذمہ دار شخص ہوں - میں پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپوں گا اورنہ ہی بلیک میل کروں گا کیونکہ میں غلط تاریخ رقم نہیں کرنا چاہتا-

مسٹر شیوکمار اور سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا وزیر اعلیٰ کے عہدے کیلئے سب سے آگے ہیں - دونوں کی نظریں 2023کے اسمبلی انتخابات سے پہلے اس باوقار عہدے پر جمی ہوئی ہیں -دونوں کے درمیان، مسٹر شیوکمار وزیر اعلیٰ کے عہدے کیلئے آگے رہے ہیں کیونکہ مسٹر سدارامیا کی طرف سے زیادہ تعداد میں ایم ایل ایز کی حمایت کا دعویٰ کرنے کے بعد وہ پارٹی ہائی کمان کو سخت پیغامات بھیجتے رہے ہیں -اس کے برعکس مسٹر سدارامیا خاموش رہے اور صحافیوں سے بات چیت نہیں کی- وہ پیر کی شام ایک خصوصی پرواز سے دہلی پہنچے اور کانگریس کے اعلیٰ رہنماؤں سے ملاقات کی-مسٹر شیوکمارکل شام دہلی کیلئے ٹکٹ بک کرائے تھے لیکن اچانک صحت کی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے دورہ منسوخ کر دیا، جس سے قیاس آرائیوں کو ہواملی کہ پارٹی میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے -دریں اثنا، کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے اجلاس کی نگرانی کیلئے کرناٹک بھیجے گئے پارٹی کے مرکزی مبصرین نے اپنی رپورٹ پارٹی کے قومی صدر ملکارجن کھرگے کو سونپ دی ہے - وہ کرناٹک کی ذات پات کی سیاست کی باریکیوں کو جانتے ہوئے اگلے وزیراعلیٰ کے نام کا اعلان کرنے کیلئے گیند محترمہ گاندھی اور پارٹی لیڈر راہل گاندھی کے کورٹ میں ڈال سکتے ہیں -

غورطلب ہے کہ کانگریس 224رکنی کرناٹک اسمبلی میں زبردست اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے - پارٹی نے 135سیٹیں جیت کر بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کو باہر کا راستہ دکھایا- بی جے پی، جو گزشتہ اسمبلی انتخابات میں 104سیٹوں کے ساتھ واحد سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی، 2023کے انتخابات میں ووٹروں کو راغب کرنے میں ناکام رہی-


Share: