جموں، 21؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کشمیر میں جاری بدامنی کے درمیان مرکزی حکومت نے آج اپنی ترجیحات کوشمار کراتے ہوئے کہا کہ تشدد میں ملوث افراد سے کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے جبکہ ریاست کی ترقی کے لیے کوشش جاری رہے گی جو گزشتہ60سالوں سے رکی ہوئی تھی۔کشمیر کی صورت حال کو سنگین بتاتے ہوئے سینئر مرکزی وزیر ارون جیٹلی نے کہا کہ کشمیر میں پتھراؤ میں شامل لوگ ستیہ گرہی نہیں ہیں بلکہ مظاہرین ہیں جو پولیس اور سیکورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں، لیکن محدود سوچ والے لوگ اسے نہیں دیکھ سکتے۔جموں شہر کے مضافات میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جیٹلی نے موجودہ بدامنی کے لیے پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے ذریعے ریاست کو چھیننے میں ناکام رہنے کے بعد وہ نئے انداز میں ہندوستان کی سالمیت پر حملہ کر رہا ہے اور 1947میں تقسیم کے بعد سے ہی مشکلات پیدا کر رہا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کی تین ترجیحات ہیں۔ان ترجیحات کو شمار کراتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک کی سیکورٹی اور سالمیت کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کریں گے اور تشدد میں شامل افراد سے سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ دوسری بات کہ جموں وکشمیر تشدداورجنگ کاسامناکرچکاہے اس لیے یہاں ترقی کی ضرورت ہے جو گزشتہ 60سالوں سے نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی حکومتوں نے نہیں ہونے دیا۔تیسری بات یہ ہے کہ جموں بی جے پی کا گڑھ ہے جس پر بہت زیادہ توجہ دئیے جانے کی ضرورت ہے۔ان کی ترجیحات اس لیے اہم ہیں کہ اپوزیشن مودی حکومت پر بدامنی سے نمٹنے میں کوئی پالیسی نہیں اپنانے کا الزام لگارہاہے،اپوزیشن پارٹی بدامنی کو حل کرنے کے لیے سیاسی حل تلاش کرنے اور مذاکرات کرنے کا دباؤ بنا رہی ہیں۔کشمیرمیں44دنوں سے جاری بدامنی کے بارے میں جیٹلی نے کہاکہ ابھی اس وقت ایک سنگین صورت حال ابھری ہے جس میں پاکستان، علیحدگی پسند اور مذہبی طاقتوں نے ہاتھ ملالیا ہے اور اب نئے انداز میں وہ ہندوستان کی سالمیت پرحملہ کررہے ہیں۔