ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرونا بحران: گلگت بلتستان میں سیاحت متاثر ہونے سے غربت میں اضافہ

کرونا بحران: گلگت بلتستان میں سیاحت متاثر ہونے سے غربت میں اضافہ

Mon, 22 Jun 2020 16:54:01    S.O. News Service

 اسلام آباد،22/جون (آئی این ایس انڈیا)  پاکستان میں سیاحت کے لیے مقبول مقام گلگت بلتستان ان دنوں کرونا وائرس کی وجہ سے زبوں حالی کا شکار ہے۔ وہاں رواں برس نہ سیاح ہیں اور نہ ہی کاروباری سرگرمیاں۔ جس کی وجہ سیاحت کے شعبے سے وابستہ خاندان پریشانی میں مبتلا ہیں۔

وادی ہنزہ کے علاقے گلمت کی رہائشی شميم بانو گزشتہ 22 برس سے قالين بافی کی صنعت سے وابستہ ہيں۔ کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے رواں برس اب تک کسی نے بھی ان کے سینٹر کا رُخ نہيں کيا ہے۔

آٹھ خواتين پر مشتمل 'کارگاہ مرکز' کا تمام تر دار و مدار سياحت سے جڑا ہوا ہے۔

شميم بانو کے مطابق گلگت بلتستان کی نماياں اشيا ميں بکرے کی اون کی رگ، جسے مقامی زبان ميں 'شرما' يا 'پلوس' کہتے ہيں، وہ سياحوں ميں کافی مقبول ہے لیکن اس سال سیاح نہ ہونے کی وجہ سے انہیں شديد مالی بحران کا خدشہ ہے۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتايا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران شمالی علاقوں کی جانب غیر ملکی سیاحوں کا رخ زيادہ تھا اور ملک کے دوسرے علاقوں سے آنے والوں کی بھی خاصی بڑی تعداد یہاں آنے لگی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

شميم بانو کے مطابق انہوں نے ايسی صورتِ حال پہلے کبھی نہيں ديکھی۔ کرونا وائرس کی وجہ سے سياحوں کی جنت کہا جانے والا سارا علاقہ سنسنان ہو گیا ہے۔

تینتالیس سالہ شميم بانو کے مطابق گلگت بلتستان میں جاپانی سياحوں کی آمد سے بہار کا موسم شروع ہو جاتا جس کے بعد ديگر ممالک کے لوگ بھی دھڑا دھڑ آنا شروع ہو جاتے ہيں اور يہ سلسلہ اکتوبر تک چلتا رہتا ہے۔ شہر سياحوں سے بھرے رہتے ہيں اور يوں ہر جگہ رونق لگی رہتی ہے۔

ان کے بقول قالين بافی علاقائی صنعت نہيں ہے۔ البتہ قالین کے ڈیزائن مقامی طور پر تیار کیے جاتے ہیں جس کی انہوں ںے باقاعدہ تربیت بھی لی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہاتھ سے بنے ہوئے ايک قالين کی قيمت تين ہزار سے شروع ہر کر چاليس ہزار تک ہوتی ہے اور ان کے سینٹر میں کام کرنے والی خواتین سیزن میں تقریباً تین لاکھ روپے تک کما لیتی ہیں لیکن اس سیزن میں ایسا ممکن نہیں دکھائی دیتا۔

پاکستان ميں زيادہ تر سياح ملک کے شمالی علاقوں يا پھر صوبہ خيبر پختونخوا کے علاقوں کا رُخ کرتے ہيں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 15 لاکھ آبادی پر مشتمل گلگت بلتستان کی معيشت کا 65 سے 70 فی صد دار و مدار سياحت پر ہے۔

گلگت بلتستان ميں محکمۂ سياحت کے ڈائريکٹر اقبال حسين نے وائس آف امریکہ کو بتايا کہ گزشتہ برس 14 لاکھ جب کہ 2018 ميں 17 لاکھ افراد نے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں کی سير کی تھی۔


Share: