ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک میں مسلمانوں کے 4 فیصد ریزرویشن کو ختم کرنے کے امیت شاہ کے بیان پر سپریم کورٹ کا اعتراض؛ ایڈوکیٹ دوے نے اسے توہین عدالت سے کیا تعبیر

کرناٹک میں مسلمانوں کے 4 فیصد ریزرویشن کو ختم کرنے کے امیت شاہ کے بیان پر سپریم کورٹ کا اعتراض؛ ایڈوکیٹ دوے نے اسے توہین عدالت سے کیا تعبیر

Tue, 09 May 2023 11:46:56    S.O. News Service

نئی دہلی  9/مئی (ایس او نیوز)   کرناٹک اسمبلی انتخابات سے ایک دن پہلے، سپریم کورٹ نے کرناٹک میں مسلمانوں کے لیے 4 فیصد کوٹہ واپس لینے کے بارے میں ایک سیاسی ریلی کے دوران امت شاہ کے تبصرے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے منگل کو کرناٹک مسلم او بی سی ریزرویشن معاملے پر عوامی کارکنوں کے  تبصروں پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ عدالت میں زیر التوا ہے۔ 

عدالت نے اپنے زیر غور معاملے کے بارے میں سیاسی بیانات کو "نامناسب" قرار دیتے ہوئے  زور دے کر کہا کہ "کچھ تقدس برقرار رکھنے کی ضرورت ہے"۔   سینئر ایڈوکیٹ دشینت دوے نے کرناٹک انتخابی مہم کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ذریعے اس مسئلہ پر کئے گئے تبصروں کی طرف بینچ کی توجہ مبذول کروائی توجسٹس کے ایم جوزف، بی وی ناگرتنا اور جسٹس احسن الدین امان اللہ پر مشتمل بنچ نے اس طرح کے عوامی بیانات پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔

ایڈوکیٹ دیشنیت دوے نےعدالت کو بتایا کہ کوئی دوسرا نہیں بلکہ ملک کے وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے مسلمانوں سے ریزرویشن واپس لے لیا ہے۔ حالانکہ سالیسٹر جنرل آف انڈیا نے پہلے ہی عدالت کے سامنے حلف لیا ہے کہ ریزرویشن واپس لینے کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا جائے گا۔ دوے نے نشاندہی کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اس کے باوجود ایسے بیانات دینا توہین عدالت کے مترادف ہے۔ دوے نے بتایا کہ یہ میرے مطابق توہین ہے۔ 

 یاد رہے کہ   کرناٹک میں  اپنی انتخابی تشہیر کے دوران  وزیر داخلہ نے مسلم ریزرویشن کو آئین کے خلاف قرار دیا  تھا اور کہا تھا کہ  بی جے پی سرکار نے مسلمانوں کا ریزرویشن  ختم کرکے صحیح کام کیا ہے۔

 سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کرناٹک حکومت کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ کسی  بھی مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن غیر آئینی ہے۔  تاہم، انہوں نے امت شاہ کی طرف سے  دئے گئے  بیان کے بارے میں  لاعلمی ظاہر کی  ۔بنچ نے واضح کیا کہ  ہماراسیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، لیکن اس پر عوامی بیانات نہیں دیئے  جانے چاہئے۔ دوے  نے اپنی طرف سے کہا کہ وہ عدالت کے سامنے وزیر کا بیان ریکارڈ پر رکھ سکتے ہیں۔

عدالت نے اس معاملے کی سماعت ایل غلام رسول اور دیگر کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں کی وجہ سے 25 جولائی تک ملتوی کر دی۔

اس نے سالیسٹر جنرل کے ایک بیان کو  ریکارڈ میں لیا کہ ریاستی حکومت کے 27 مارچ کو مسلمانوں کو 4 فیصد ریزرویشن کو ختم کرنے کے فیصلے پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ درخواست گزاروں نے کہا کہ مسلم کمیونٹی کی سماجی اور تعلیمی لحاظ سے پسماندہ طبقے کی شناخت کو سپریم کورٹ نے اندرا ساہنی بمقابلہ یونین آف انڈیا، 1992 (منڈل کیس) میں منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ EWS فہرست میں مسلم کمیونٹی کو شامل کرنا غیر قانونی ہے۔


Share: