ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک انتخابی نتائج: کیا آپ جانتے ہیں، عوام نے بی جے پی کے کن کن سرکردہ لیڈران کو مسترد کیا ؟

کرناٹک انتخابی نتائج: کیا آپ جانتے ہیں، عوام نے بی جے پی کے کن کن سرکردہ لیڈران کو مسترد کیا ؟

Sat, 13 May 2023 23:48:55    S.O. News Service

بنگلورو، 13/مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) کرناٹک اسمبلی انتخاب کے نتائج سے جس طرح بی جے پی کے پیروں تلے سے ز مین کسک گئی ہے اور عوام نے ہندو مسلم نفرت کے ایجنڈے کو جس طرح ریجیکٹ کردیا ہے، ثابت ہوگیا ہے کہ عوام کو ہندو-مسلم کے نام پر مزید بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا۔

کانگریس اس بار 224 میں سے 136 اسمبلی سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہیں اور بالآخر کرناٹک کے موجودہ وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی کو اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کی کرسی چھوڑنی پڑگئی ہے۔ اس الیکشن میں گرچہ بومئی نے اپنے حلقہ انتخاب شیگاؤں سے 54.95 فیصد ووٹ حاصل کر بہ آسانی جیت حاصل کر لی، لیکن بی جے پی کے کئی سرکردہ لیڈران بشمول کئی وزراء، اپنی سیٹیں ہار گئے ہیں۔ آئیے ڈالتے ہیں بی جے پی کے کچھ ایسے ہی شکست خوردہ لیڈروں پر سرسری نظر۔

1. سی ٹی روی، چکمگلور: تمل ناڈو کے انچارج اور بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری سی ٹی روی کو چکمگلورو اسمبلی حلقہ میں اپنے پرانے ساتھی ایچ ڈی تھمیا کے ہاتھوں حیرت انگیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ تھمیا کانگریس کی  ٹکٹ پر انتخابی میدان میں اترے تھے اور 64552 ووٹ حاصل کیا، جبکہ روی کو 55678 ووٹ ہی حاصل ہو سکے۔ اس طرح 8874 ووٹوں کی واضح برتری کانگریس امیدوار کو حاصل ہوئی۔

تھمیا کا تعلق لنگایت برادری سے ہے اور وہ چکمگلورو میونسپل کونسل کے صدر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ کانگریس نے ضلع کی تمام پانچ اسمبلی سیٹوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے چکمگلور میں بی جے پی کا صفایا کردیا۔

2. وی سومنّا، ورونا: ہاؤسنگ منسٹر وی سومنّا جو کانگریس کے سرکردہ لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کو ہرانے کے لئے میدان میں اترے تھے، خود ہار گئے ہیں۔ لنگایت لیڈر سومنّا صرف 73,653 ووٹ حاصل کر سکے جبکہ سدارامیا نے 1,19,816 ووٹ حاصل کیے۔ سومنّا کو چامراج نگر اور ورونا دونوں حلقوں سے شکست ہوئی ہے۔

3. بی سری راملو، بلاری دیہی: ایک اور وزیر بی سری راملو کو کانگریس رکن اسمبلی بی ناگیندر کے ہاتھوں بری شکست ہوئی۔ بی ناگیندر نے 1,03,836 ووٹ اور سری راملو نے 74,536 ووٹ حاصل کیے۔ یعنی ناگیندر نے 29300 ووٹوں سے جیت حاصل کی۔

بتاتے چلیں کہ انتخابات سے قبل سری راملو کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بننے کا خواب دیکھ رہے تھے، انہوں نے کہا تھا کہ اگر پارٹی فیصلہ کرتی ہے تو وہ مستقبل میں وزیر اعلیٰ کے امیدوار ہو سکتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ بلاری میں بی جے پی کے سابق وزیر اور کانکنی تاجر جناردھن ریڈی کی مضبوط گرفت ہے۔ انھیں سپریم کورٹ نے بلاری میں داخل ہونے سے منع کر دیا ہے، اور یہی ریڈی دراصل سری راملو کے سرپرست تصور کیے جاتے ہیں۔

4. بی سی ناگیش، ٹیپٹور: بومئی کی کابینہ میں اسکولی تعلیم اور خواندگی کے وزیر بی سی ناگیش، جنہوں نے حجاب کو اسکولوں سے ہٹانے کا فرمان جاری کیا تھا، عوام نے انہیں اسمبلی کی رکنیت سے ہی بے دخل کردیا۔ ٹیپٹور حلقہ میں  کانگریس امیدوار کے شداکشری سے وہ 17,652 ووٹوں کے فرق سے ہار گئے۔

ناگیش نے 2008 اور 2018 میں ٹیپٹور حلقہ سے ریاستی اسمبلی کے انتخابات جیتے تھے۔ آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے وزیر ناگیش نے رواں سال کے شروع میں اعلان کیا تھا کہ امتحانی مراکز میں حجاب پہننے والی طالبات کو بارہویں جماعت کے امتحانات میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جس کی وجہ سے کئی مسلم طالبات کو امتحانی مراکز اور پھر سرکاری کالجوں سے باہر کردیا گیا تھا، ان پر کرناٹک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور نسل کشی پر مبنی تقریر کا بھی الزام لگا تھا۔ عوام نے انہیں اسمبلی سے ہی باہر کا راستہ دکھا دیا۔

5. ڈاکٹر کے. سدھاکر، چکّبلاپور: کرناٹک اسمبلی انتخاب کے سب سے بڑے اَپ سیٹ میں سے ایک ریاستی وزیر صحت کے. سدھاکر کی شکست ہے۔ وہ چکّبلاپور میں کانگریس امیدوار پردیپ ایشور سے تقریباً 10,000 ووٹوں سے ہار گئے۔ وہ ان باغیوں میں شامل تھے جنہوں نے پچھلے سال کانگریس چھوڑ کر ایچ ڈی کماراسوامی کی قیادت والی حکومت کو گرانے میں اہم رول نبھایا تھا۔ عوام نے انہیں بھی ریجیکٹ کردیا۔

6. آر. اشوکا، کنکا پورہ: وزیر برائے ریونیو آر. اشوکا کو کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈی کے شیوکمار کے خلاف میدان میں اتارا گیا تھا۔ یہاں شیوکمار کے ہاتھوں انھیں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ شیوکمار کو جہاں 1,43,023 ووٹ حاصل ہوئے، وہیں اشوکا کو محض 19,753 ووٹ ملے۔ ووکالیگا طبقہ میں مضبوط گرفت رکھنے والے اشوکا کی اس انتخاب میں ضمانت بھی ضبط ہو گئی۔ ان سے زیادہ ووٹ تو جنتا دل سیکولر کے امیدوار بی ناگراج  کو ملے جنھوں نے 20,631 ووٹ حاصل کیے۔ البتہ پدمناب نگر کے عوام نے آر اشوک کی تھوڑی لاج رکھی اور وہ وہاں کامیاب رہے۔

ڈی کے شیوکمار، جنھوں نے 1980 کی دہائی میں اپنا سیاسی کیریر شروع کیا تھا، وہ کنکا پورہ حلقہ سے متعدد بار رکن اسمبلی کے طور پر منتخب ہوئے ہیں۔ 2008، 2013 اور 2018 میں بھی اسی سیٹ سے وہ منتخب ہوئے تھے۔

7. وشویشور ہیگڑے کاگیری، سرسی: اسپیکر وشویشور ہیگڑے کاگیری کانگریس کے بھیمنا نائک سے 8,712 ووٹوں سے ہار گئے۔ سرسی میں مسلسل چھ مرتبہ جیت درج کرنے والے کاگیری کو اس بار عوام نے مسترد کردیا۔گزشتہ مرتبہ کانگریس کے موجودہ امیدوار بھیمنا نائک دوسرے نمبر پر آئے تھے۔ اس مرتبہ انھوں نے بازی پلٹ دی اور جیت حاصل کر لی۔

8. جے سی مدھوسوامی، چکنایاکناہلی: قانون اور پارلیمانی امور کے وزیر جے سی مدھوسوامی کو جے ڈی (ایس) امیدوار سی بی سریش بابو نے 10,025 ووٹوں سے شکست دی۔ چکنایاکناہلی اسمبلی حلقہ ٹمکور ضلع کا ایک حصہ ہے اور یہاں 1997 کے ضمنی انتخابات سمیت گزشتہ 16 اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے چھ بار، جے ڈی (ایس) نے تین بار، بی جے پی نے دو بار، اور جنتا دل (متحدہ) و پرجا سوشلسٹ پارٹی نے ایک ایک بار جیت حاصل کی۔


Share: