بنگلورو ،10/اپریل (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کی تیاریاں تیز رفتاری سے جاری ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی میٹنگوں کا دور شروع ہو گیا ہے اور اسی سلسلے میں، کانگریس نے اتوار (09 اپریل) کو صدر ملکارجن کھرگے (10 راجا جی مارگ) کی رہائش گاہ پر میٹنگ کی ہے۔ اس میٹنگ میں ملکارجن کھرگے کے علاوہ راہل گاندھی، مکل واسنک، رندیپ سرجے والا، کے سی وینوگوپال اور موہن پرکاش موجود تھے۔اجلاس کا وقت شام 4 بجے رکھا گیا۔ اس میں باقی سیٹوں پر امیدواروں کے ناموں اور ریاست میں آگے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔فی الحال کانگریس نے کرناٹک اسمبلی انتخابات کے لیے 166 سیٹوں کے لیے اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے اور باقی سیٹوں کے لیے بات چیت کی گئی۔
وہیں کرناٹک کے وزیر اعلی بسواراج بومئی، مرکزی وزیر پرہلاد جوشی اور دیگر بی جے پی لیڈر کرناٹک اسمبلی انتخابات 2023 کے لیے مرکزی الیکشن کمیٹی (CEC) کی میٹنگ میں شرکت کے لیے پارٹی ہیڈکوارٹر پہنچ گئے ہیں۔دوسری طرف کولار میں ہونے والی راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کی ریلی کو پھر سے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اس بار راہل کی ریلی 16 اپریل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ پارٹی ذرائع سے موصولہ اطلاع کے مطابق ریلی کو ملتوی کرنے کی وجہ کولار اسمبلی سیٹ کو لے کر جھگڑا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا اپنی روایتی ورون سیٹ کے علاوہ کولار سے بھی انتخاب لڑنا چاہتے ہیں لیکن ریاستی صدر ڈی کے شیوکمار اس کے حق میں نہیں ہیں۔
جس کی وجہ سے کولار سیٹ کا معاملہ پارٹی ہائی کمان پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کولار پر فیصلے میں تاخیر کی وجہ سے راہل کی کولار ریلی کی تاریخ تیسری بار بڑھا دی گئی ہے۔سدارامیا کے دعوے کے علاوہ کولار میں راہل گاندھی کی ریلی اہم ہے کیونکہ اپریل 2019 میں لوک سبھا انتخابات کے دوران کولار میں ہی راہل گاندھی نے ’’مودی سرنیم‘‘ کو لے کر ایک متنازعہ بیان دیا تھا۔ جس سے متعلق ہتک عزت کیس میں انہیں گزشتہ ماہ دو سال کی سزا سنائی گئی تھی اور ان کی لوک سبھا کی رکنیت بھی ختم ہوگئی تھی۔ معلومات کے مطابق ریلی ملتوی ہونے سے عوام پر پڑنے والے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔