ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک اسمبلی انتخابات: کیا لنگایت لیڈروں کا پارٹی چھوڑنا بی جے پی کو بھاری پڑے گا ؟!     

کرناٹک اسمبلی انتخابات: کیا لنگایت لیڈروں کا پارٹی چھوڑنا بی جے پی کو بھاری پڑے گا ؟!     

Mon, 17 Apr 2023 15:46:33    S.O. News Service

بھٹکل 17 / اپریل (ایس او نیوز)  بالآخر لنگایت طبقہ کے ایک بڑے لیڈر اور ماضی میں بی جے پی سے ریاست کے چیف منسٹر رہے جگدیش شٹر جیسے قدیم ترین سنگھی سیاسی قائد نے پارٹی کو الوداع کہا اور کانگریس میں نہ صرف شمولیت حاصل کر لی بلکہ ہبلی سے اپنے لئے اسمبلی الیکشن کی ٹکٹ لینے میں بھی  کامیاب  ہو گئے ۔ اس سے پہلے لکشمن سوادی نے بھی بی جے پی کا کنول چھوڑ کر کانگریس کا ہاتھ تھام لیا اور کانگریس کو اس الیکشن میں کامیاب کرنے کے لئے سرگرم ہونے کا تیقن دیا ۔
    
حالات کی اس کروٹ پر سیاسی پنڈتوں کا  خیال ہے کہ ریاست کے دو اہم ترین طبقات میں سے ایک ویرا شَیوا - لنگایت طبقہ سے تعلق رکھنے والے شمالی کرناٹکا کے قد آور اور بہت ہی با اثر قسم کے  ان دو لیڈروں کا خروج پارٹی کے لئے مہنگا پڑ سکتا ہے ۔ کیونکہ گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے اسی طبقہ کی مکمل حمایت کے سہارے بی جے پی کو اقتدار میں آنے کے مواقع ملے ہیں ۔ اب اچانک ان دو لیڈروں کے پارٹی چھوڑنے کے ساتھ بی جے پی کا سیاسی مفاد اور مستقبل الیکشن میں اس لئے بھی متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ بی جے پی کے اندر لنگایت لیڈروں پر برہمنی لیڈروں کی بالادستی قائم کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی بات بھی ابھر کر سامنے آئی ہے ، جس سے پورا لنگایت سماج متاثر ہو سکتا ہے ۔ اور یہ بات بی جے پی کے لئے انتہائی ہلاکت خیز ثابت ہو سکتی ہے ۔
    
جگدیش شٹر کی اگر بات کریں تو وہ لنگایت کے ایک ذیلی طبقہ باناجیگا سے تعلق رکھتے  ہیں ۔ وہ بی جے پی بننے سے قبل 'جن سنگھ ' کے زمانے سے پھلتے پھولتے  سنگھ پریوار کا حصہ رہے ہیں ۔ بی جے پی میں وہ لنگایت طبقہ کے ایڈی یورپا اور ایشورپا جیسے بلند قامت لیڈر تھے ۔  دوسری طرف لکشمن ساودی لنگایت کے ذیلی طبقہ گانیگا (تیلی) سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی طاقت کا مرکز بیلگاوی کا علاقہ ہے ۔ ان دونوں کی اپنے سماج پر بڑی مستحکم گرفت ہے ۔ اس کے علاوہ برسراقتدار بی جے پی نے لنگایت کے بہت ہی طاقتور طبقہ 'پنچ مسالے' کا ریزوریشن کا مطالبہ بھی پورا کرنے میں صحیح طریقہ کار نہیں اپنایا اورعین الیکشن کے قریب آتے ہی  مسلمانوں کا 2 b  ریزرویشن چھین کر انہیں دینے کی کوشش کی جو بذات خود ایک نئے تنازعہ اور پنچ مسالے لنگایتوں کی بے اطمینانی کا سبب بن گیا ہے ۔ 
    
خیال رہے کہ اس سے پہلے کانگریس نے 2018  کے اسمبلی الیکشن سے قبل ویرا شَیوا لنگایت طبقہ کو ہندو دھرم سے الگ ایک دھرم کی حیثیت دینے کا اعلان کیا تھا ۔ وہ معاملہ بھی تنازعہ اور کشمکش کی نذر ہوگیا ۔
    
اب جگدیش اور ساودی کے خروج سے بی جے پی کے خلاف لنگایت طبقہ میں جو سگنل جا رہے ہیں اس سے ممبئی کرناٹکا علاقہ میں اور خاص کر ہبلی - دھارواڑ ، بیلگاوی، باگلکوٹ ، وجیا پورا اور ہاویری جیسے اضلاع میں بی جے پی کے لئے بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ لنگایت طبقہ کے سب سے طاقتور لیڈر مانے جانے والے سابق چیف منسٹر ایڈی یورپا اور بی جے پی کے صف اول کے لیڈر ایشورپا بھی انتخابی میدان سے باہر ہیں ۔ لے دے کے اب بی جے پی کے پاس لنگایت کے ذیلی طبقہ سدر سے تعلق رکھنے والے  بسواراج بومئی موجودہ وزیر اعلیٰ ہی لنگایتوں کا ایک بڑا چہرا ہے جو انتخابی میدان میں ہے ۔ 
    
سیاسی جانکار کہتے ہیں کہ بی جے پی کے اندر جو اتھل پتھل ہو رہی ہے وہ برہمن بمقابلہ لنگایت والی کشمکش ہے ۔ سابق وزیر اعلیٰ کمارا سوامی نے کچھ دن پہلے بتایا تھا کہ بی جے پی کے اندر ہی اندر کسی برہمن کو وزیر اعلیٰ بنانے کی مہم چل رہی ہے ۔ اور لگتا ہے کہ اسے لنگایت طبقہ کے لیڈران بھی محسوس کر رہے ہیں ۔ اور یہ نکتہ بی جے پی لیڈران کو خوفزدہ کر رہا ہے کہ اس کی وجہ سے کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں اور بی جے پی کو 'برہمنوں کی پارٹی' کا لیبل نہ لگ جائے ۔
    
2018 میں لنگایت کو الگ مذہب قرار دینے کی مہم چلانے والے  کانگریسی لنگایت لیڈر ایم بی پاٹل نے  اس نکتہ کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے کہ کس طرح سینئر ترین لنگایت لیڈر ایشورپا کو نظر انداز کرکے ان کے مقابلے میں ایک برہمن لیڈر بی ایل سنتوش کو بی جے پی نے اس مرتبہ ٹکٹ دیا ہے ۔ اپنے ٹویٹ میں پاٹل نے کہا : بی جے پی میں لنگایتوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جا رہا ہے اور انہیں بی جے پی کے بنیادی اراکین نہ سمجھتے ہوئے صرف ووٹ بینک تصور کیا جاتا ہے ۔ لنگایتوں کے ساتھ کی گئی بد سلوکی کی وجہ سے کرناٹکا میں ایک بڑی سیاسی اتھل پتھل ہونے جا رہی ہے ۔  
    
بی جے پی میں لنگایتوں کو کنارے لگانے کی جو مہم چلی ہوئی ہے اس کے لئے برہمن طبقہ کے لیڈر بی ایل سنتوش اور مرکزی وزیر پرہلاد جوشی پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں اور پارٹی کو آئندہ ہونے والے نقصان کے لئے انہیں کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے ۔ 
    
ادھر بی جے پی نے حالات کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے طاقتور لنگایت لیڈر ایڈی یورپا کو آگے بڑھایا ہے اور پارٹی کی طرف سے لنگایت طبقے کو اپنے اعتماد میں رکھنے اور کسی منفی اقدام سے باز رکھنے کی ذمہ داری ایڈی یورپا کے سر ڈالی گئی ہے ۔     


Share: