ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروار: بی جے پی میں آڈیو بم دھماکہ - اپنے ہی امیدوار کے خلاف کانگریسی امیدوار کو ووٹ دینے کا معاملہ

کاروار: بی جے پی میں آڈیو بم دھماکہ - اپنے ہی امیدوار کے خلاف کانگریسی امیدوار کو ووٹ دینے کا معاملہ

Fri, 28 Oct 2022 20:22:51    S.O. News Service

کاروار 28/ اکتوبر (ایس او نیوز) گزشتہ سال ہوئے ودھان پریشد کے انتخابات میں کاروار سٹی میونسپل کاونسل کے کچھ بی جے پی اراکین کی طرف سے اپنے ہی امیدوار گنپتی اولویکر کے خلاف کراس ووٹنگ کرتے ہوئے کانگریسی امیدوار کی حمایت کرنے کی بات سننے میں آئی تھی ۔ مگر چونکہ کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا اس لئے یہ بات آئی گئی ہوگئی تھی ۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق اب اچانک بی جے پی کی 2 کاونسلر خواتین اور ایک کانگریسی لیڈر کے درمیان فون پر بات چیت کا آڈیو لیک ہوگیا ہے جس نے بی جے پی کیمپ میں ایک دھماکہ کر دیا ہے ۔ اس آڈیو فون کال میں ایک خاتون کاونسلر کو صاف صاف یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ انہیں بی جے پی کے اس امیدوار (گنپتی اولویکر) کے نام سے ہی چڑ ہے ۔ وہ اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی ۔ اس لئے اسے ہرانے کے لئے وہ اور اس کے دیگر پانچ ساتھی کاونسلر خواتین نے کانگریسی امیدوار (بھیمنّا نائک) کے حق میں ووٹنگ کی ہے ۔ اسی آڈیو میں ایک اور خاتون کاونسلر کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ "مجھے وہ چیز موصول ہوئی ہے ۔"

سیاسی حلقوں میں سمجھا جا رہا ہے کہ یہاں "وہ چیز" سے مراد "رقم" ہی ہوسکتی ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہے کچھ بی جے پی اراکین نے اور خاص کرکے بی جے پی سے وابستہ 6 خواتین کاونسلرس نے کانگریس کے ساتھ 'ڈیلنگ' کی تھی اور اس کے بدلے میں انہیں رقم فراہم کی گئی تھی ۔

بعض معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ودھان پریشد انتخاب کا اعلان ہونے کے بعد بی جے پی کاونسلرس کی  یہ ٹیم کانگریسی امیدوار بھیمنّا نائک سے ملاقات کرنے اور بڑا سودا کرنے کی نیت سے سرسی بھی پہنچی تھی اور وہاں یہ لوگ ایک ہوٹل میں قیام پزیر تھے ۔ لیکن چونکہ بھیمنّا نائک اپنے پرچار کے لئے دورے پر تھے اس لئے ان سے ملاقات نہیں ہو سکی اس کے علاوہ سرسی میں بھیمنّا نائک اور دوسرے کانگریسی لیڈروں نے بی جے پی کے ان کاونسلرس پر زیادہ توجہ نہیں دی اور انہیں گھاس نہیں ڈالی تو یہ لوگ کاروار واپس لوٹ آئے اور یہاں کے ایک کانگریسی لیڈر سے مل کر اپنی ڈیلنگ طے کی ۔ 

اس ڈیلنگ کے ساتھ انتخاب کے وقت کراس ووٹنگ کرنے کے بعد نتیجہ آنے سے پہلے ان میں سے صف اول کی دو خواتین کاونسلرس نے کاروار کے کانگریسی لیڈر سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ انہوں نے بی جے پی امیدوار گنپتی اولویکر کو شکست دلانے کے مقصد سے کانگریسی امیدوار کے حق میں کراس ووٹنگ کی ہے ۔ اور یہ بات بھی قبول کی تھی کہ "وہ چیز مل گئی ہے ۔"

اس آڈیو کلپ دھماکہ سے یہ سمجھا جارہا ہے کہ گنپتی اولویکر کے انتخاب کے وقت جن بی جے پی لیڈروں اور کاونسلرس نے اندر ہی اندر ایک مخالف گروہ بنایا تھا اور کراس ووٹنگ کی تھی اس گروپ میں شائد اب آپسی پھوٹ پڑ گئی ہے اور اس وقت اہم کردار نبھانے والی خواتین کاونسلرس کو سبق سکھانے کے لئے اسی گروپ میں سے کسی نے یہ آڈیو کلپ لیک کردی ہے ۔ 

بہر حال اس آڈیو بم دھماکہ کی وجہ سے بی جے پی کے اندر کھلبلی مچ گئی ہے اور ہائی کمان چوکنا ہوگیا ہے ۔ اس سلسلے میں اگلی کارروائی کیا ہوگی ، یہ دیکھنے کے لئے کچھ دن انتظار کرنا پڑے گا ۔ 


Share: