ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / چنتامنی میں راشن کارڈ سے آدھاکر کارڈ نمبر جوڑنے کیلئے مزید کائونٹرس قائم کرنے کرشنا ریڈی کی ہدایت

چنتامنی میں راشن کارڈ سے آدھاکر کارڈ نمبر جوڑنے کیلئے مزید کائونٹرس قائم کرنے کرشنا ریڈی کی ہدایت

Mon, 19 Dec 2016 12:21:27    S.O. News Service

چنتامنی:19 /دسمبر(محمد اسلم/ایس او نیوز)چنتامنی حلقے کے رُکن اسمبلی جے کے کرشناریڈی نے آج اچانک تعلقہ دفتر کے اکثر کونٹرس کا جائزہ لینے کے بعد محکمہ خوارک شہری رسدات دفتر کا بھی جائزہ لیا اس دوران وہاں راشن کارڈ کو آدھار کارڈ نمبر جوڑنے کے لئے لمبی لائن لگی ہوئی تھی قطاروں میں کھڑی خواتین و ضعیف احباب نے رُکن اسمبلی سے کہا کہ راشن کارڈ جسے حکومت عوام کو راحت پہونچانے کیلئے فراہم کرتی ہے مگر راشن کارڈ سے عوام کو راحت کم اور پریشانیاں زیادہ ہورہی ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ایک غریب وغیر سیاسی اثر ورسوخ والے بی پی ایل راشن کارڈ حاصل کرلیناہی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے اور ہزار دوڈ دھوپ کے بعد اگر کوئی غریب راشن کارڈ بنا بھی لیتا ہے تو اب یہاں نئی اور مختلف اقسام کی لامتنا ہی پر پشانیوں کا آغاز ہوتا ہے راشن لینے سے قبل سائبر سنٹرس میں جاکر دس روپے دے کر ٹوکن لینا ہوتا ہے راشن کارڈ میں اگر پانچ افراد کانام ہے تو ٹوکن میں صرف تین یا دولوگوں کے ہی نام آتے ہیں، مطلب یہ ہوا کہ جن کے نام ٹوکن میں ہیں راشن صرف ان ہی کو دیا جائیگا اور باقی کے بارے میں یہ صلاح دی جاتی ہے کہ ان کے آدھارکارڈ کا لنگ راشن کارڈ سے کرائیں پھر تعلقہ دفتر جائیں وہاں سے پھر سائبرسینٹر آئیں اور پھر راشن ڈپو پہو نچنے کے بعد لسٹ میں اپنے نام اور کارڈ نمبر تلاش کریں۔ ٹوکن میں راشن کی قیمت اگر 42روپے ہے تو ڈپو والے کوپورے 50روپے ادا کرنے ہوتے ہیں اور اگلے مہینہ میں بھی انہیں اسی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا پڑتا ہے۔ قطار میں کھڑے لوگوں نے رُکن اسمبلی سےنوٹ بندی سے ہونے والی پریشانیوں کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ اب قطاروں میں کھڑے عوام کو تعلقہ آفس سائبر سنٹرس اور راشن ڈپومیں صبح تا شام قطار میں کھڑا ہوناپڑرہا ہے

عوام کی شکایتوں کو سننے کے بعد رُکن اسمبلی کرشناریڈی نے فوڈ انسپکٹر پدمبرم کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ راشن کارڈ کو آدھار کارڈ نمبر جوڑنے کے لئے یہاں صرف ایک ہی کونٹر قائم کیا گیا ہے جس سے ضعیف احباب و خواتین کو دن بھر قطار میں کھڑے کافی پریشان ہونا پڑتا ہے اس لئے آدھار کارڈ نمبر راشن کارڈ سے جوڑنے کے لئے مزید کونٹرس قائم کیا جائے تاکہ عوام کو سہولت ہو اور ضعیف افراد خواتین کے لئے الگ کونٹرس قائم کیا جائے اگر دودنوں کے اندر مزید کونٹرس قائم نہیں کیا گیا متعلقہ وزیر کو تمہارے خلاف شکایت کرنا پڑیگا؟ٹاون فوڈ انسپکٹر پدمبرم نے آخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چند سائبر سنٹرس والے پچھلے تین ماہ پہلے راشن کارڈ کو آدھار نمبر جوڑے ہیں وہ ٹھیک طرح لنک نہیں ہوا ہے انھیں چاہئے کہ اولین فرصت میں جن لوگوں کو راشن کارڈ سے آدھار نمبر لنک نہیں ہوا وہ فوراََ لنک کرلیں نہیں تو راشن کارڈ منسوخ ہونے کا بھی امکان رہتا ہے ۔
 


Share: