چترادرگہ، 16 / مئی (ایس او نیوز) ریاستی اسمبلی الیکشن میں بے جے پی کو کراری شکست دینے کے لئے کانگریس نے جو اسٹریٹجی بنائی تھی اس میں پانچ گیارنٹیوں والے کارڈ کا بھی بڑا رول رہا ہے اور اس کارڈ کی سہولتیں عوام کو فراہم کرنے کے لئے حکومت کی تشکیل ، وزیر اعلیٰ کا انتخاب اور مستفیض ہونے والوں کے تعلق سے شرائط و ضوابط کا باضابطہ اعلان ضروری ہے ۔ مگر ابھی سے ہی کانگریس کی گیارنٹیوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے لوگوں کی بھاگ دوڑ شروع ہوگئی ہے اور اس پر منفی و مثبت انداز میں تبصرے شروع ہوگئے ہیں ۔
اس دوران چترادرگہ کے جالی کٹّے گاوں سے ملی خبر کے مطابق یہاں کے باشندوں نے کانگریس کی پانچ میں سے ایک 200 یونٹ مفت بجلی والی گیارنٹی کارڈ کا فائدہ اٹھانے کا تہیہ کیا ہے اور ابھی سے بجلی کا بل بھرنے سے انکار کردیا ہے۔ بیسکام کے عملہ اور افسران نے گاوں والوں کو سمجھانے کی بڑی کوشش کی کہ ریاستی حکومت کی جانب سے مفت بجلی کا حکم جاری ہونے کے بعد ہی اس پر عمل ہوگا اور تب بجلی کا بل بھرنا ضروری ہے، مگر گاوں والے ضد پر اڑے ہیں اور کوئی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ یہ لوگ بیسکام افسران سے کہہ رہے ہیں کہ آپ لوگ سرکاری افسران سے بل مانگو ۔ اس ضمن میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوا ہے جس میں گاوں والے بیسکام کے افسران سے کہہ رہے ہیں کہ آئندہ انہیں بجلی کا بل دینے کی کوشش نہ کی جائے ۔