ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / پلاٹ کیس، میر شکیل الرحمٰن کے خلاف ریفرینس دائر

پلاٹ کیس، میر شکیل الرحمٰن کے خلاف ریفرینس دائر

Sat, 27 Jun 2020 17:31:49    S.O. News Service

لاہور،27/جون (آئی این ایس انڈیا) لاہور کی احتساب عدالت نے پاکستان کے ایک بڑے نجی میڈیا گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمٰن کے خلاف غیر قانونی پلاٹ کیس کا ریفرینس دائر کر دیا ہے۔ ریفرینس میں جنگ اور جیو گروپ کے مالک سمیت چار ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے؛ جس میں سابق وزیراعظم پاکستان نواز شریف، سابق ڈائریکٹر جنرل لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور سابق ڈائریکٹر لینڈ ڈویلپمنٹ، ایل ڈی اے کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

قومی احتساب بیورو لاہور کی جانب سے نواز شریف اور میر شکیل الرحمٰن کے خلاف ریفرینس دو جلدوں پر مشتمل ہے، جس کے بعد احتساب عدالت کے ایڈمن جج نے فاصل جج اسد علی کو ریفرینس پر سماعت کا اختیار دیا ہے۔ ریفرینس کے مطابق، عدالت میں اِس کیس پر سماعت 29 جون 2020ء کو ہوگی۔

واضح رہے یہ ریفرینس 105 دنوں کے بعد دائر کیا گیا ہے، تب سے میر شکیل الرحمٰن نیب کی حراست میں ہیں۔

پاکستان کے بڑے صحافتی ادارے 'جنگ گروپ' کے مالک میر شکیل الرحمٰن کو پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں 12 مارچ کو اُس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ اپنے خلاف تحقیقات کے لیے نیب لاہور کے دفتر گئے تھے۔

پاکستان کے صحافتی اور سیاسی حلقے میر شکیل الرحمٰن کی طویل عرصے سے گرفتاری پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم بخاری کی رائے میں عمران خان سمیت پاکستان تحریک انصاف کی پوری قیادت اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جیو اور جنگ گروپ اُن کے مخالف ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سلیم بخاری نے کہا کہ ''یہ بات سب کے سامنے ہے جب عمران خان کنٹینر پر کھڑے ہو کر احتجاج کیا کرتے تھے یا الیکشن کی مہم چلا رہے تھے، تو سب سے زیادہ کوریج اِسی میڈیا گروپ نے اُنہیں دی تھی۔ لیکن آج وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اُن کا دشمن گروپ ہے''۔

بقول ان کے، “لہٰذا، ہر کوشش کی جا رہی ہے کہ اُنہیں نقصان پہنچایا جائے۔ جب فواد چوہدری وزیرِ اطلاعات تھے اُس وقت بھی اور اُس کے بعد جب فردوس عاشق مشیر اطلاعات تھیں اُس وقت بھی اِس گروپ کے حوالے سے جس مخاصمت کا مظاہرہ اِن لوگوں نے کیا وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے”۔

قانونی ماہر اظہر صدیق کی رائے میں میر شکیل کی گرفتاری فوجداری قوانین کے تحت ہوئی ہے، کیونکہ پاکستان میں فوجداری قانون ہی چلتے ہیں۔ ان قوانین کے تحت قتل کی دھمکی ہو یا چیک برآمد ہو جائے تو اُس میں بھی گرفتاری کا عنصر شامل ہوتا ہے۔

 


Share: