نئی دہلی، 22؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)خصوصی عدالت نے دہلی میں 100کروڑ روپے کے ٹرانسپورٹ گھوٹالہ معاملے میں خصوصی پبلک پراسکیوٹر(ایس پی پی )کو مقرر کرنے پر نئے سرے سے دلیلوں پر سماعت کرنے کا آج فیصلہ کیا۔ایسا دہلی حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر کے اختیارات پر ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے پیش نظر کیا جا رہا ہے۔خصوصی جج پونم چودھری نے کہا کہ عدالت کو اب تک ہائی کورٹ کا حکم حاصل نہیں ہوا ہے، جس میں معاملہ میں خصوصی پبلک پراسکیوٹر ٹر مقرر کرنے کے دہلی حکومت کے نوٹیفکیشن کو منسوخ کرنے کے اس کے فیصلہ کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔عدالت نے کہاکہ دہلی ہائی کورٹ کا حکم نہیں ملا ہے۔خصوصی پبلک پراسکیوٹر بی ایس جون دہلی حکومت کی طرف سے مقررکردہ ،نے فیصلہ کے مؤثر حصے کو سونپ دیا ہے۔دلیلوں پر سماعت کے لیے معاملہ کو 20؍ستمبر کے لیے درج کریں۔جہاں ایڈووکیٹ سنجے کمار گپتا کو لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے گزشتہ سال مقرر کیا تھا، وہیں ایڈووکیٹ بی ایس جون کو ایس پی پی مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن آپ حکومت نے جاری کیا تھا ۔حالانکہ خصوصی عدالت نے گزشتہ سال ستمبر میں کہا تھا کہ ایل جی کی طرف سے مقرر ایس پی پی معاملے میں کارروائی کریں گے، جسے دہلی حکومت نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ہائی کورٹ نے 4 ؍اگست کو کہا تھا کہ لیفٹیننٹ گورنر کو کسی معاملے میں ایس پی پی مقرر کرنے کے اختیار کا استعمال کرنے کے دوران کابینہ کے مشورہ سے کام کرنا ہے۔عدالت نے 7 ؍ستمبر 2015کو نچلی عدالت کے فیصلہ کو منسوخ کر دیا تھا اور خصوصی جج کو قانون کے مطابق مناسب حکم جاری کرنے کی ہدایت دی تھی۔