وجیا نگر ،15 / اپریل (ایس او نیوز) کالج کی ایک طالبہ نے چلتی بس سے اس وقت چھلانگ لگائی جب سرکاری بس کے ڈرائیور اور کنڈکٹر نے کالج کے پاس بس روکنے کی درخواست نہیں مانی ۔ اس کے نتیجے میں اس کے سر پر گہری چوٹ آئی اور اسپتال میں علاج کارگر نہ ہونے کی وجہ سے لڑکی نے دم توڑ دیا ۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق ہاڈگلی تعلقہ کے ہولالو گاوں کی رہنے والی شویتا شانتپناور نامی طالبہ اپنے گھر سے 6 کلو میٹر دوری پر واقع سرکاری انجینئرنگ کالج میں فرسٹ سیمسٹر میں زیر تعلیم تھی ۔ پولیس کے پاس درج ایف آئی آر کے مطابق وجیا نگر - رانی بینور جانے والی کے آر ایس ٹی سی بس میں شویتا سوار ہوئی اور جب وہ بس کالج کے قریب پہنچنے لگی تو اس نے ڈرائیور اور کنڈکٹر سے بس روکنے کی درخواست کی ۔ ان دونوں نے مبینہ طور پر بس کالج کے قریب روکنے سے نہ صرف منع کیا بلکہ شویتا کو بس سے باہر کودنے کو کہا ۔ جب بس کالج کے بالکل قریب پہنچی تو پریشان حال شویتا نے اچانک چلتی بس سے باہر چھلانگ لگا دی ۔ اس کی وجہ اس کے سر میں شدید زخم آئے ۔
زخمی شویتا کو پہلے ہاڈگلی کے سرکاری اسپتال لے جایا گیا پھر وہاں سے داونگیرے ایک پرائیویٹ اسپتال میں منتقل کیا گیا ۔ مگر اس نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا ۔
شویتا کی ہلاکت کی خبر عام ہوتے ہی کالج کے طلبہ نے بس ڈرائیور اور کنڈکٹر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ پولیس اور تحصیلدار نے بڑی مشکل سے طلبہ کو سمجھا بجھا کر احتجاج ختم کیا ۔
ہاڈاگلی کے کے ایس آر ٹی سی بس ڈپو منیجر چالاپتھی نے بتایا کہ جس بس میں یہ واقعہ پیش آیا ہے وہ ہاویری ڈپو کی بس تھی جس کے بارے میں ہاویری ڈپو منیجر کو رپورٹ بھیج دی گئی ہے ۔