ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / نوکرشاہی جہاد: سُدرشن ٹی وی کے شو پر ’قبل از نشریات‘ روک لگانے پر سپریم کورٹ کا انکار؛ سدرشن ٹی وی کو جاری کی نوٹس

نوکرشاہی جہاد: سُدرشن ٹی وی کے شو پر ’قبل از نشریات‘ روک لگانے پر سپریم کورٹ کا انکار؛ سدرشن ٹی وی کو جاری کی نوٹس

Sat, 29 Aug 2020 11:07:00    S.O. News Service

نئی دہلی 29 اگست (ایس او نیوز)سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز سدرشن ٹی وی کے متنازعہ مسلم مخالف شو پر قبل از نشریات روک لگانے سے انکار کر دیا۔ اس پروگرام میں مبینہ طور پر یو پی ایس سی (یونین پبلک سروس کمیشن) میں مسلمانوں کے انتخاب پرسوال اٹھائے گئے ہیں  اور اسے فرقہ وارانہ رنگ دیا گیا ہے۔

جسٹس ڈی وائی چندرچوڈ اور کے ایم جوزف پر مشتمل بنچ نے فیروز اقبال خان کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کے دوران کہا کہ عدالت کو 49 سیکنڈ کے کلپ کی غیر مصدقہ شدہ ثبوتوں کی بنیاد پر قبل از نشریات حکم امتناع جاری کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق بنچ نے کہا، ’’اس مرحلے پر 49 سیکنڈ کے کلپ کی غیر تصدیق شدہ نقل کی بناء پر ہم قبل از نشریات پر حکم امتناع جاری کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ عدالتوں کو اشاعت یا نظریات کی نشریات پر پابندی عائد کرتے وقت محتاط رہنا چاہئے۔"

سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون التزامات کے تحت مجاز حکام کے پاس اس طرح کے اختیارات ہیں کہ وہ سماجی ہم آہنگی اور طبقات میں امن و سکون کی فضا کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے اس کے ساتھ ہی حکومت ہند، پریس کاؤنسل آف انڈیا، نیوز براوڈکاسٹرس ایسوسی ایشن کے علاوہ سدرشن نیوز کو بھی نوٹس جاری کرکے 15 ستمبر تک جواب طلب کیا ہے۔

ایک دیگر معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے سدرشن ٹی وی کے شو کی نشریات پر روک لگا دی۔ سپریم کورٹ کے حکم کے بارے میں لوگوں کو 7 بجے کے بعد اس وقت ہی معلوم چل سکا جب اس فیصلے کو سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کیا گیا۔ جسٹس نوین چاولہ  نے دائر عرضی پر مرکزی حکومت، یو پی ایس سی، سدرشن ٹی وی اور اس کے ایڈیٹر ان چیف سریش چوہانکے کو نوٹس جاری کرکے جواب مانگا ہے۔ اس معاملہ میں اگلی سماعت 7 ستمبر کو ہوگی۔

عدالت میں دائر عرضی میں کہا گیا ہے کہ سدرشن ٹی وی پر نشر ہونے والے پروگرام کا مقصد جامعہ ملیہ اسلامیہ اور مسلم کمیونٹی کو بدنام کرنا نیز ان کے خلاف نفر ت پھیلانا ہے۔ خیال رہے کہ حال ہی میں سدرشن ٹی وی سمیت کئی ریاستوں میں سدرشن ٹی وی اور چوہانکے کے خلاف پولیس میں شکایت کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) تنظیم نے بھی سریش چوہانکے کے ذریعہ مسلمانوںکے خلاف شروع کئے جارہے پروگرام کی مذمت کی ہے۔ تنظیم کی طرف سے کہا گیا کہ ’’سدرشن چینل پر مذہب کے نام پر سول سروس کے امیدواروں کو نشانہ بناکر پروگرام پیش کیا جا رہا ہے۔ ہم اس فرقہ ورانہ اور غیرذمہ دارانہ صحافت کی مذمت کرتے ہیں۔‘‘


Share: