نئی دہلی 18 نومبر (ایس او نیوز/ایجنسی) نوٹ بندی کو لے کر مرکز کی مودی حکومت نے سپریم کورٹ میں حلفنامہ داخل کرتے ہوئے اپنا پلہ جھاڑنے کی کوشش کی ہے اور پوری ذمہ داری ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) پر ڈال دی ہے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق 8؍ نومبر 2016 کو گئی نوٹ بندی کو لے کر مودی حکومت کو بالآخر سپریم کورٹ میں یہ بتانا پڑا ہے کہ آخر کن بنیادوں پر یہ غیر معقول فیصلہ کیا گیا تھا ۔ سرکار کی جانب سے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے اس فیصلے کی پرتیں ایک ایک کرکے کھولی گئی ہیں جس میں مرکز نے دعویٰ کیا ہے کہ نوٹ بندی کا فیصلہ آر بی آئی کے مشورہ پر کیا گیا تھا اور اس فیصلے کو نافذ کرنے سے پہلے تمام پہلوئوں کانہایت گہرائی سے جائزہ لیا گیا تھا۔ اس تعلق سے پیشگی تیاریاں بھی کی گئی تھیں اور جب جب ضرورت پڑ ی فیصلوں میں ترمیم بھی کی گئی تھی اور حالات کے مطابق فیصلے کو تبدیل بھی کیا گیا تھا۔
جیسا کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ نوٹ بندی کے بارے میں اب تک کوئی بات سامنے نہیں آئی تھی کہ حکومت نے آخر کن بنیادوں پر اور کس سے مشورہ کرکے یہ خطرناک فیصلہ کیا تھا جس کی وجہ سے ملک کی معیشت اب تک ڈانواڈول ہےلیکن اب مرکزی حکومت نے جو حلف نامہ داخل کیا ہے اس میں سب سے بڑا دعویٰ یہ کیا گیا ہے کہ نوٹ بندی کا فیصلہ مرکزی حکومت نے خود نہیں کیا تھا بلکہ اس کے لئے ریزرو بینک کی اعلیٰ سطحی باڈی سینٹرل بورڈ نے مشورہ دیا تھا ۔ مرکز کے مطابق اس مشورہ پر بھی آنکھ بند کرکے عمل نہیں کیا گیا بلکہ نوٹ بندی کا اعلان کرنے سے قبل تمام تیاریاں کی گئیں ، تمام پہلوئوں کا انتہائی گہرائی سے جائزہ لیا گیا اور اس کے بعد نوٹ بند کرنے کا اعلان کیا گیا۔ حلف نامہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نوٹ بند ی یوں ہی اور بغیر کسی مشورہ کے کیا گیا فیصلہ بالکل نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے کئی مہینوں کی محنت ہے۔ اس تعلق سے ریسرچ بھی کی گئی اور آر بی آئی کو ہر وقت اس کی اطلاع دی جاتی رہی ۔ اس لئے فیصلے کو بے سر پیر کا قرار دینے کی کوشش نہیں ہونی چاہئے۔
مرکزی حکومت نے اپنے حلف نامہ میں یہ بات بھی واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ مالیاتی پالیسی سے متعلق فیصلہ ہے جس کا جائزہ نہیں لیا جانا چاہئے۔ سرکار نے ملک کو کئی بڑی پریشانیوں سے بچانے کے لئے آر بی آئی کی قیادت میں نوٹ بندی نافذ کی تھی جو تاریخی قدم تھا۔ اسے پارلیمنٹ میں بھی پیش کیا گیا جہاں اس تعلق سے قانون بھی بنایا گیا ہے۔ اس لئے مذکورہ فیصلے کی سخت جانچ کی ضرورت نہیں ہے۔
مرکز نے اس دوران یہ دعویٰ بھی کیا کہ نوٹ بندی اگر نہیں کی جاتی تو ملک میں جعلی نوٹوں کا کاروبار اتنا بڑھ جاتا کہ وہ ملک کی معیشت کو تباہ کردیتا۔ اس کے علاوہ نکسل ازم اور دہشت گردی روکنے کے لئے بھی یہ فیصلہ ضروری تھا ۔ نوٹ بندی کی وجہ سے دہشت گردی کی کمر ٹوٹ گئی اور نکسل ازم بھی تقریباً ختم ہونے کے دہانے پر ہے۔ حلف نامے کے مطابق جس وقت نوٹ بندی کی گئی اس سے کچھ ماہ قبل تک ملک میں بڑے پیمانے پر جعلی نوٹ برآمدہوئے تھے جو ملک کی معیشت کے لئے بہت بڑا خطرہ تھا ۔ اسی لئے نوٹ بندی جیسا قدم اٹھایا گیا۔ اس کے علاوہ کیش لیس اکنامی بنانا بھی ایک بڑا مقصد تھا جو کافی حد تک حاصل کرلیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کی معیشت کو مزید توسیع دینے کے مقصد سے بھی یہ فیصلہ کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ کانگریس لیڈر اور سابق وزیر مالیات پی چدمبرم نے اس تعلق سے مطالبہ کیا تھا اور گزشتہ سماعت میں کورٹ کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تھی کہ مرکزی حکومت نے اب تک نوٹ بندی کے فیصلے کے تعلق سے حلف نامہ داخل نہیں کیا ہے۔ ایسے میں فیصلے کا جائزہ نہیں لیا جاسکے گا۔ کورٹ نے چدمبرم کی اپیل کو درست قرار دیتے ہوئے مرکز کی سخت سرزنش کی تھی اور اگلی شنوائی سے پہلے حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا تھا۔ حالانکہ مرکز نے اسے ٹالنے کی بہت کوشش کی لیکن کورٹ کے سخت رویے کی وجہ سے اسے حلف نامہ دینا ہی پڑا۔ واضح رہے کہ نوٹ بندی کے خلاف سپریم کورٹ میں ۳۶؍ پٹیشن داخل کی گئی ہیں۔ مرکزنے ان پر سماعت کی پرزور مخالفت کی تھی لیکن کورٹ نے انہیں نہ صرف قبول کرلیا بلکہ حکومت سے نوٹ بندی کے تعلق سے تمام معلومات حلف نامہ کی شکل میں دینے کی ہدایت کی۔