واشنگٹن ،25/جون (آئی این ایس انڈیا)امریکہ کے خلائی تحقیق کے ادارے ’ناسا‘ کے سربراہ جِم بریڈن اسٹین نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن ڈی سی میں واقع ناسا کے ہیڈ کوارٹرز کی عمارت کا نام ادارے کی پہلی سیاہ فام خاتون انجینئر میری وِنسٹن جیکسن کے نام پر رکھا جا رہا ہے۔
ناسا نے اس افریقن امریکی خاتون انجینئر کو ادارے کی چھپی ہوئی شخصیت بھی قرار دیا ہے۔ ناسا کے اعلامیے کے مطابق میری جیکسن نے ناسا میں اپنے کیریئر کا آغاز ورجینیا میں واقع لائنگلی ریسرچ سینٹر کے ویسٹ ایریا کمپیوٹنگ یونٹ سے کیا تھا۔میری جیکسن ریاضی دان اور ایئرو اسپیس کی انجینئر تھیں۔میری جیکسن نے ناسا میں کئی پروگراموں کی قیادت کرتے ہوئے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی میں خواتین کے کردار کو بڑھایا۔میری جیکسن کو ان خدمات پر 2019 میں بعد از مرگ گانگریشنل گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا تھا۔
ناسا کے سربراہ جِم بریڈن اسٹین کا کہنا تھا کہ میری جیکسن خواتین کے ایک ایسے اہم گروپ کی رکن تھیں جس نے امریکی خلا بازوں کو خلا میں پہنچانے میں مدد کی تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میری جیکسن نے کبھی 'اسٹیٹس کو' کو تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے رْکاوٹوں کو ختم کرنے میں مدد کی جب کہ ٹیکنالوجی و انجینئرنگ کے شعبوں میں خواتین اور سیاہ فام افریقن امریکیوں کے لیے مزید مواقع پیدا کیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آج ہم فخر سے 'میری ڈبلیو جیکسن ناسا ہیڈ کوارٹرز بلڈنگ کے نام کا اعلان کر رہے ہیں۔ انہوں نے میری جیکسن کو ناسا کی ترقی میں کردار ادا کرنے والی مخفی شخصیات میں سے ایک قرار دیا۔جِم بریڈن اسٹین نے کہا کہ ہم ان خواتین، سیاہ فام امریکیوں اور طبقات کے ان افراد کو یاد کرتے رہیں گے جنہوں نے ناسا کی خلائی تحقیق میں حصہ ڈالا۔میری جیکسن ورجینیا مین پیدا ہوئی تھیں۔ ہائی اسکول سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 1942 میں ریاضی اور فزیکل سائنس میں ڈگری حاصل کی۔ ابتدا میں انہوں نے ریاضی کے استاد کے طور پر بھی فرائض انجام دیے تاہم بعد ازاں اْنہوں نے امریکی فوج جوائن کی، اس کے بعد ان کا خلائی تحقیق کے ادارے ناسا میں سفر شروع ہوا۔