نئی دہلی، 3 /فروری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مرکزی وزارت خزانہ کے ایک سینئر افسر نے آج کہا کہ نوٹ بند ی کے بعد بینکوں میں نئے نوٹ ڈالنے کام لگ بھگ مکمل ہو چکا ہے کیوں کہ اب کیش نکالنے پر عملی طور پر کوئی پابندی نہیں رہ گئی ہے۔یادہوگا کہ مودی حکومت نے گذشتہ 8/نومبرکو 1000اور 500کے نوٹوں کے چلن پر پا بندی لگادی تھی اور عوام کو ان کونوٹوں کو اپنے بینک اکاؤنٹس میں جمع کرانے یا بینکوں، ریزرو بینک یا ڈاک خانوں سے تبدیل کروانے کا حکم دیا تھا۔اس کی وجہ سے بازار میں نوٹوں کی شدید قلت ہو گئی تھی اور صورت حال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے بینک سے رقم نکالنے کی ایک حد مقرر کر رکھی ہے۔اقتصادی امور کے سکریٹری شکتی کانت داس نے میڈیا سے خصوصی بات چیت میں کہاکہ سیونگ اکاؤنٹ سے ہفتے میں کیش نکالنے کی 24000کی حد کو چھوڑ کر اب دیگر تمام پابندیاں ہٹالی گئی ہیں، یہ حد بھی اب کچھ ہی دنوں کی بات ہے۔داس نے یہ بھی کہا کہ نوٹوں کی فراہمی اور اس کا انتظام ریزرو بینک آف انڈیا کا کام ہے،سیونگ اکاؤنٹس سے رقم نکالنے بچی کھچی حد کو ہٹانے کا فیصلہ مرکزی بینک ہی مستقبل قریب میں لے گا۔انہوں نے کہا کہ سیونگ اکاؤنٹس سے ایک ماہ میں صرف چند گنی چنی نکاسی ہی ایک لاکھ تک کی ہوتی ہیں، اس لیے آج بھی عملی طور پر بینک سے رقم نکالنے پر کوئی پابندی نہیں رہ گئی ہے، مجھے لگتا ہے کہ واپس لئے گئے نوٹوں کی جگہ نئے نوٹ ڈالنے کا کام تقریبا تقریبا مکمل ہو چکا ہے،میں قریب قریب اس لیے کہہ رہا ہوں، کیوں کہ ابھی 24000روپے کی ہفتہ وار حد برقرار ہے۔