ممبئی، 27/اپریل (ایس او نیوز/ایجنسی) میڈیا کے مختلف حلقوں میں یہ خبر گردش کررہی تھی کہ مہاوکاس اگھاڑی میں پھوٹ پڑ گئی ہے اور این سی پی سربراہ شرد پوار علاحدہ الیکشن لڑنے کی تیاری کررہے ہیں اور اجیت پوار بی جے پی سے ہاتھ ملا سکتے ہیں۔ ان تمام بیانات مہاراشٹر کا سیاسی ماحول کافی گرم تھا اور بی جے پی کی جانب سے اپنی گھبراہٹ چھپانے کے لئے مہا وکاس اگھاڑی کو نشانہ بنایا جارہا تھا لیکن این سی پی سربراہ شرد پوار نے ان تمام باتوں کی بالکل واضح اور دو ٹوک انداز میں تردید کرتے ہوئے یہ واضح کردیا کہ مہا وکاس اگھاڑی پوری طرح سے متحد ہے اور وہ اگلے الیکشن ایک ساتھ لڑیں گے تاکہ بی جے پی کو اقتدار سے دور کیا جاسکے۔ سابق مر کزی وزیر شرد پوار جو مہاراشٹر کی سیاست کے نباض مانے جاتے ہیں ، نے میڈیا کی ان تمام قیاس آرائیوں اور بی جے پی کی جانب سے شوشے چھوڑنے کی کوششوں پر بریک لگادیا اور کہا کہ مہاوکاس اگھاڑی کی تینوں پارٹیاں ( این سی پی،کانگریس اور شیو سینا ) متحد ہو کر ہی انتخابات لڑیں گی۔ شرد پوار نے ان خبروں کی بھی تردید کی کہ اجیت پوار بی جے پی کے ساتھ مل کر سرکار بنا سکتے ہیں یاوزیر اعلیٰ بننے کے لئے پرتول رہے ہیں۔
ممبئی کے یشونت راؤ چوہان سینٹر میں منعقد ہ پریس کانفرنس میں شرد پوار نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے تقریباً ۱۸؍ منٹ گفتگو کی اور متعدد سوالوں کے واضح جواب دئیے۔ شرد پوار سے یہ پوچھا گیاکہ امراؤتی میں آپ نے مہا وکاس اگھاڑی کے چنائو لڑنے کےتعلق سے جو بیان دیا تھااس سے کافی تذبذب پایاجارہا ہے؟ اس پر شردپوار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ میڈیا میں بتایا جارہا ہے وہ ان کے اپنے ذہنوں کی اُپج ہے۔ وہ میرا پورا بیان نہیں ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ جب دو یا تین پارٹیاں آپس میں متحد ہوتی ہیں اور چناؤ قریب آتا ہے تو انتخابات لڑنے کے تعلق سے حکمت عملی تیار کی جارتی ہے اور اس کیلئے آپس میں بات چیت ہوتی ہے اور فی الحال یہ کام باقی ہے اور میں نے امرائوتی میں اسی جانب اشارہ کیا تھا لیکن میڈیا نے اسے اپنے مطلب کی خبر بناکر پیش کردیا۔ اسی دوران شرد پوار نے کہا کہ مَیں ایک بار پھر یہ واضح کر دینا چاہتاہوں کہ مہاوکاس اگھاڑی کی تینوں پارٹیاں مل کر چناؤ لڑیں گی۔البتہ چناؤ میں کتنی سیٹ پر کون لڑے گا، اس پر بات چیت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے ۔ اس بعد ہی آگے کا راستہ ہموار ہوگا۔
اس سوال پر کہ اجیت پوار وزیر اعلیٰ بننے کے لئے پرتول رہے ہیں اور ان کے تعلق سے ریاست میں کئی جگہوں پر پوسٹر لگے ہوئے ہیں،شرد پوار نے کہاکہ میری معلومات کےمطابق اجیت پوار نے ان پوسٹرس پر اور ان کے این سی پی چھوڑ کر جانے والی خبروں دونوں پرناراضگی کا اظہار کیاہے کیوں کہ ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ شیو سینا کی جانب سے بھی وزیر اعلیٰ کا عہدہ این سی پی کودینے کی کوئی تجویز نہیں ملی ہے۔ایک سوال پر کہ اجیت پوار کے این سی پی چھوڑنے اور پارٹی سے ناراضگی کی بھی خبریں گشت کر رہی ہے تو کیا آپ نے اس بارے میں اجیت پوار سے نہیں پوچھا؟ شرد پوار نے کہا کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ صرف گودی میڈیا پھیلارہا ہے۔
شندے خیمے کے تعلق سے یہ پوچھنے پرکہ ایسا گمان ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ۱۶؍ اراکین اسمبلی کی رکنیت کالعدم قرار دی جاسکتی ہے ؟ شرد پوار نے صحافی سے سوال کیا کہ اس ضمن میں سپریم کورٹ کاکوئی آرڈر ان کے پاس ہے؟ پوار نے مزید کہاکہ ابھی اس پر فیصلہ نہیں آیا ہے اور میرے پاس اتنا دماغ نہیں ہے کہ میں ایسے فیصلوں پر تبادلۂ خیال کروں جو نہیں آیاہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ہی اس پر بات چیت کی جاسکتی ہے۔
کھار گھر سانحہ کی جانچ کیلئے یک رکنی ٹیم بنانے پر سوال اٹھاتے ہوئے شرد پوار نے کہاکہ چونکہ یک رکنی کمیٹی حکومت کے دباؤ میں کام کرے گی اس لئےاس کی غیر جانبداری پر ہمیشہ سوال رہے گا۔ انہوں نے کھارگھر سانحہ کے لئے ایک مرتبہ پھر شندے حکومت کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ اس ذمہ داری سے شندے حکومت نہیں بچ سکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بی جے پی بھی کافی بے چین ہے۔