ممبئی، 10؍مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) مہاراشٹر میں جاری سیاسی بحران پر جمعرات یعنی 11 مئی کو سپریم کورٹ کی آئینی بنچ فیصلہ سنا سکتی ہے۔ اس درمیان مہاراشٹر میں سیاسی ہلچل بڑھ گئی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ عدالتی فیصلے سے ریاست کی سیاسی سمت طے ہوگی۔ ایکناتھ شندے اور ادھو ٹھاکرے دونوں ہی گروپ اپنے اپنے حق میں فیصلہ آنے کا دعویٰ کر رہے ہیں، لیکن حقیقت حال سے پردہ تو کل ہی اٹھے گا۔
شیوسینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت کا کہنا ہے کہ ’’کل فیصلہ سنایا جائے گا کہ یہ ملک آئین سے چلتا ہے یا نہیں۔ ملک میں جمہوریت زندہ ہے کہ نہیں۔ کل یہ بھی فیصلہ ہوگا کہ ہمارا نظامِ انصاف کسی دباؤ میں کام کر رہا ہے یا نہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ یہ ملک آئین سے چلتا ہے اور جو ملک آئین سے نہیں چلتا تو آپ پاکستان کی حالت دیکھ لیجیے۔ ہم یہی چاہتے ہیں کہ یہ ملک آئین سے چلے اور ہمارا نظامِ انصاف آزاد رہے۔
مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر راہل ناوریکر کا اس تعلق سے کہنا ہے کہ موجودہ ریاستی حکومت کے پاس اکثریت ہے، چاہے کوئی بھی فیصلہ آئے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میرے اسپیکر بننے کے بعد، یہ حکومت اکثریت کے امتحان میں کامیاب رہی۔ تعداد کے حساب سے دیکھیں تو اس حکومت کے پاس اکثریت ہے، چاہے کوئی بھی فیصلہ آئے۔‘‘ نارویکر نے اس سے پہلے منگل کے روز بھی کہا تھا کہ اراکین اسمبلی کی نااہلیت کے سلسلے میں فیصلہ اسمبلی اسپیکر کا خصوصی اختیار ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ عدلیہ اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے اچھی طرح واقف ہے۔
دوسری طرف ٹھاکرے گروپ کے لیڈر اور ادھو ٹھاکرے کے بیٹے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ ’’ہمیں عدلیہ پر پورا بھروسہ ہے۔ آئین پر عمل کرنے سے ہی ملک کو فائدہ ہوگا۔‘‘ حالانکہ شندے گروپ کے لیڈر سنجے شرساٹ نے کہا کہ مجھے جانکاری ملی ہے کہ 16 اراکین اسمبلی کی نااہلی پر سپریم کورٹ کل اپنا فیصلہ سنائے گا۔ کل سب کچھ صاف ہو جائے گا، میں بھی 16 اراکین اسمبلی میں سے ایک ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا۔
اس درمیان مہاراشٹر بی جے پی چیف چندرشیکھر باونکلے نے بدھ کے روز دعویٰ کیا کہ برسراقتدار شیوسینا-بی جے پی اتحاد ضرورت پڑنے پر 288 رکنی اسمبلی میں 184 سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے اکثریت ثابت کر سکتی ہے۔ باونکلے نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سنائے جانے سے پہلے تبصرہ کرنا، عدالت کی بے عزتی کے برابر ہے۔