امپھال15؍دسمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)منی پور میں چندیل ضلع کے دو الگ الگ علاقوں میں آج سڑکوں سے بلاکر ہٹانے والی ٹیم(آراوپی)پر انتہاپسندوں کی طرف سے گھات لگا کر کئے حملے میں منی پور پولیس کے ایک کمانڈو اور دو پولیس کانسٹیبل کی موت ہو گئی جبکہ نو دیگر زخمی ہو گئے۔اس سے پہلے خبریں تھیں کہ چندیل پہاڑی ضلع کے لوکچاو اور بوگیاگ علاقے میں حملے میں چار پولیس اہلکاروں کی موت ہو گئی جبکہ چار دیگر زخمی ہیں۔یہ دو حملے ایسے وقت ہوئے جب یونائیٹڈ ناگا کونسل(یواین پی)او ابوبی سنگھ کی زیر قیادت حکومت کی طرف سے ریاست میں سات اضلاع بنائے جانے کے خلاف آج چار نگا ضلع کواٹر میں بڑی ریلی کی تیاری میں ہیں۔گھات لگا کر پہلا حملہ سرحدی شہر مورے سے تقریبا 21کلومیٹر دور لوکچاو میں اس وقت ہوا جب پولیس ٹیم ٹیگنوپل کی طرف جا رہی تھی۔وزیر اعلی موجودہ ناگا اکثریتی چندیل ضلع سے الگ کر کے بنائے گئے تیگنوپل ضلع کے افتتاح کے لئے منعقد ایک پروگرام میں حصہ لینے والے تھے۔وزیر اعلی کو کاگپوکپی ضلع کے رسمی افتتاح کے سلسلے میں ایک دوسرے پروگرام میں بھی شامل ہونا تھا۔یہ ضلع ناگا اکثریتی سوناپتی اور اکھرول اضلاع سے الگ کر کے بنایا گیا ہے۔پولیس نے کہا کہ تیگنوپل ضلع کے رسمی افتتاح میں شامل ہونے والے ابوبی سنگھ ہیلی کاپٹر سے امپھال لوٹ آئے۔تیگنوپل میں نامہ نگاروں سے وزیر اعلی نے کہا کہ منی پور پولیس پر حملے کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے اور تمام تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے۔انہوں نے حملے میں مارے گئے پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کیا۔مارے گئے دو پولیس کانسٹیبلوں کی شناخت ایوب خان اور ایچ نگرئیے ماررگ کے طور پر کی گئی ہے۔خان کی موت لوکچاو میں جائے حادثہ پر ہی ہوئی جبکہ دیگر پولیس اہلکار نے علاج کے لئے امپھال جاتے وقت دم توڑا۔