ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / مغربی موصل میں عراقی فورسز کو داعش کی سخت مزاحمت کا سامنا

مغربی موصل میں عراقی فورسز کو داعش کی سخت مزاحمت کا سامنا

Sat, 25 Feb 2017 20:36:05    S.O. News Service

بغداد25فروری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)عراق کی خصوصی فورسز کے دستوں نے شمالی شہر موصل کے مغربی حصے میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے جبکہ خصوصی فورسز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عبدالوہاب السعدی کا کہنا ہے کہ سرکاری فورسز کو اس لڑائی میں داعش کی سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور لڑائی کے نتیجے میں مزید شہری اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب جارہے ہیں۔انھوں نے ہفتے کے روز ایک بیان میں ہے کہ ان کے دستے بڑی سست روی سے آگے بڑھ رہے ہیں لیکن داعش کے جنگجو کار بموں،گھات لگا کر فائرنگ اور مسلح ڈرونز کے ذریعے ان کا مقابلہ کررہے ہیں۔انھوں نے بتایا ہے کہ ڈرونز کے حملوں میں ہلاکتیں توبہت کم ہوئی ہیں لیکن ان کے نتیجے میں بیسیوں اہلکار معمولی زخمی ہوگئے ہیں اور اس کی وجہ سے زمینی کارروائیوں میں پیش قدمی کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔جنرل السعدی کا کہنا ہے کہ عراقی فورسز نے موصل کے جنوب مغربی کنارے میں واقع علاقے اور ڈھانچے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔اس وجہ سے توقع ہے کہ اب وہ تیزی سے پیش قدمی کریں گی کیونکہ وہ داعش کی رسد کی لائن کو منقطع کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی اور ان کا شہر کے مشرق میں واقع فورسز سے بھی زمینی رابطہ قائم ہوجائے گا۔عراقی فورسز کے ایلیٹ دستے جمعے کو موصل کے مغرب میں واقع ایک علاقے میں گذشتہ چار ماہ سے جاری کارروائی کے دوران میں پہلی مرتبہ داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔عراق کی انسداد دہشت گردی سروس کے لیفٹیننٹ جنرل سامی العریضی کا کہنا تھا کہ ان کے دستوں نے موصل کے جنوب مغرب میں واقع ایک فوجی اڈے غزلانی اور ایک گاؤں تل الریان پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور وہ شہر کے رہائشی علاقے المامون میں بھی داخل ہوگئے ہیں۔عراقی فورسز نے گذشتہ ماہ موصل کے مشرقی حصے پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا اور انھوں نے گذشتہ اتوار کو دریائے دجلہ کے مغربی کنارے میں واقع شہر کے حصے پر دوبارہ کنٹرول کے لیے داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کیا تھا۔عراق کی سکیورٹی فورسز اور اس کی اتحادی شیعہ ملیشیائیں داعش کے مضبوط گڑھ موصل پر دوبارہ کنٹرول کے لیے اکتوبر 2016ء سے یہ کارروائی کررہی ہیں۔ انھیں امریکا کی قیادت میں اتحاد کی فضائی مدد حاصل ہے۔عراقی فورسز نے اس سال کے آغازکے بعدسے بڑی تیزی سے پیش قدمی کی ہے۔داعش کے زیر قبضہ بہت سے علاقوں کو چھڑوا لیا ہے اور وہاں عراقی پرچم لہرا دیا ہے۔


Share: