نئی دہلی، 19؍دسمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں میں ڈسپلن شکنی کو سنجیدگی سے لیاجائے گا اور سینئر حکام کی طرف سے سونپے گئے کام سے فراراختیار کرنا سنگین جرم ہے۔چیف جسٹس تیرتھ سنگھ ٹھاکر، جسٹس دھننجے وائی چند رچوڈ اور جسٹس ایل ناگیشور راؤ کی تین رکنی بنچ نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی کہا کہ ایسے مجرم اہلکار کو سزا سناتے وقت اس کے پچھلے طرز عمل پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔بنچ نے دہلی ہائی کورٹ کے اگست2014کے فیصلے کے خلاف سینٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس کی اپیل پر یہ تبصرہ کیا۔ہائی کورٹ نے فورس کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنے جوان ابرار علی کو بحال کرے،ابرار علی کو ڈسپلن شکنی اور بددیانتی کی کارروائیوں کی وجہ سے ملازمت سے برخاست کر دیا گیا تھا۔عدالت عظمی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ،حالانکہ علی کو سیکورٹی فورس سے پانچ دن تک غائب رہنے اور اس سے پہلے تین موقعوں پر اس پر لگائے گئے جرمانے کے باوجود اس کے طرز عمل میں بہتری نہ ہونے کی وجہ سے ملازمت سے برخاست کرنے جیسی انتہائی سخت سزا سنائی گئی تھی۔عدالت نے کہاکہ ہمارے خیال سے، اسے لازمی طور سے ریٹائر کرنے کی سزا انصاف کے تقاضے کے مطابق ہو گی۔بنچ نے کہاکہ مسلح سیکورٹی فورسز کے رکن کی ڈسپلن شکنی کو بہت ہی سنجیدگی سے لیا جائے گا، عدالت نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ مدعا علیہ (علی)نے جان بوجھ کر اپنے سینئر حکام کے احکامات کی نافرمانی کی اور پانچ دن کے لیے فورس سے بھاگ گیا، اس طرح سے بھاگنے کا عمل سنگین جرم ہے اور اس کے لیے مدعا علیہ کو مناسب سزا ملنی چاہیے ۔بنچ نے ہدایت دی کہ علی پنشن کے لیے اہلیت کی تاریخ تک کی مدت کو مسلسل ملازمت میں سمجھا جائے گا لیکن اسے اس مدت کی تنخواہ اور مراعات نہیں دی جائیں گی۔ابرار علی ستمبر 1990میں انڈسٹریل سیکورٹی فورس میں سپاہی کے طور پر مقرر ہوا تھا اور اکتوبر 1999میں اس کو فورس کے قوانین کے تحت مبینہ طور پر بدسلوکی کی وجہ سزا دی گئی تھی۔الزامات کے مطابق ،علی دھنباد میں فورس کی اکائی میں تعینات تھا اور اس وقت اس نے اپنے سینئر حکام کے احکامات کی نافرمانی کی اور ڈسپلن شکنی کرنا ان کی فطرت ہے، فورس کی اکائی کے کمانڈنٹ نے نومبر 2000میں ا س کو ان الزامات کا مجرم پایا اور اسے ملازمت سے برخاست کرنے کی ہدایت دی گئی ۔